09:44 am
پھول بڑھائیں خواتین کا حسن!

پھول بڑھائیں خواتین کا حسن!

09:44 am

پرانے زمانے کی خواتین میں یہ بات عام تھی کہ عورت کا اصل روپ”سولہ سنگھار“یعنی(سنگھار کی سولہ چیزوں)میں ہے ورنہ عورت کا سنگھارا دھورا سا ہے ۔وقت بدلا سنگھار کی رسم بدلی اور پھر سولہ سنگھاردیکھتے ہی دیکھتے تعداد میں کم ہونے لگے آج کی عورت سولہ سنگھار کے لئے یوں کہتی نظر آتی ہے۔۔۔کیسے کریں ہم سولہ سنگھار جس میں ہو کافی وقت درکاراگر چہ آج کی عورت سولہ سنگھار سے خوفزدہ نظر آتی ہے لیکن سنگھار سے نہیں اور بات ہو سنگھار کی تو زیورات کے بغیر عورت کا بناؤ سنگھار مکمل تصور نہیں کیا جاتا۔موقع کوئی بھی ہو،زیورات کا استعمال ضروری ہے۔خواتین نہ صرف شادی بیاہ بلکہ عام دنوں میں بھی ہلکے پھلکے زیورات کا استعمال ضرور کرتی ہیں۔زیورات خواہ سونے چاندی کے ہوں، سیپ ،موتی یا شیشے کے ہوں ان کا استعمال خواتین کے حسن میں اضافے کا باعث بنتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ زیب وزینت اور آرائش کے لئے زیورات کا استعمال عام ہے۔مارکیٹ میں نت نئی اقسام کے متعارف ہونے والے زیورا ت اور ان کی مانگ اور قیمتوں میں اضافہ خواتین کی بدولت ہے یوں تو ہر دور میں زیورات کی سبھی قسمیں فیشن میں رہتی ہیں ۔
 
آج کل سونے ،چاندی،ڈائمنڈ کے علاوہ مصنوعی زیورات کی مانگ میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے ۔قیمتوں میں کمی اور لوٹ مار سے بچنے کے لئے خواتین منجوس،سکہ ،تانبا اورپیوٹر سے تیار کردہ زیورات کا استعمال بھی بخوشی کرنے لگی ہیں تاہم اس کے علاوہ زیورات کی پرانی اور انوکھی قسم جدت لئے ایک بار پھر خواتین میں تیزی سے مقبول ہونے لگی ہے۔جی ہاں!بات ہورہی ہے مختلف خوشبوؤں کے ساتھ رنگ برنگی ،لطافت کا احساس لئے پھولوں کی جو ایک طرف قدرت کی صناعی کا آئینہ دار ہیں تو دوسری طرف صنف نازک کی خوبصورتی میں اضافہ کا اہم ذریعہ بھی۔ پھولوں کے زیورات کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ برصغیر پاک وہند کی ثقافت ،شادی بیاہ یا غم کی رسومات ،تہوار اور پھولوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔یہی وجہ ہے کہ عرصہ دراز سے پھولوں کے سنگھار کو پسندیدگی کی سند حاصل رہی ہے۔پھولوں سے بنائے گئے زیورات حسن میں چار چاندلگانے کے ساتھ ساتھ صحت کے بھی ضامن کہلاتے ہیں۔ شادی کی تقاریب مایوں مہندی،رخصتی اور ولیمے کی تقاریب میں خواتین،کم عمر لڑکیاں،بالیاں سونے چاندی کے زیورات کے ساتھ ساتھ پھولوں کے گہنے اور ان سے تیار کردہ زیورات پہننا پسند کرتی ہیں ۔ اب پھولوں سے صرف کنگن ،گجرے اور ہارہی تیار نہیں کئے جاتے بلکہ جھمکے،کمربند،مانگ ٹیکا،ماتھا پٹی،گلو بند،بالیاں ،ناک کی نتھ ،یہاں تک کہ خوبصورت تاج بھی پھولوں سے ہی تیار کئے جانے لگے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پھولوں سے بنائے گئے زیورات خواتین کے پسندیدگی کے معیار میں سر فہرست نظر آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تازہ اور قدرتی پھولوں والے زیور مشرقی معاشرے کی خواتین میں زیادہ عام تھے لیکن آج کے دور میں کاغذی پھولوں سے تیار کئے گئے زیورات کا استعمال بھی ٹرینڈبنتا جارہا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں دلہن کے علاوہ دلہن کی سہیلیاں،بہنیں اور کزن بھی قدرتی اور کاغذی پھولوں کو زیب و آرائش کے لئے استعمال کرتی نظر آتی ہیں یہی نہیں مشرقی خواتین میں کاغذی پھولوں کے ساتھ ساتھ گوٹاکناری والے پھولوں اور موتیوں کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ پھول مایوں مہندی کے ملبوسات کے رنگوں اور ڈیزائن کے مطابق آرڈر پر تیار کروائے جاتے ہیں۔ پھول زیور کی مقبولیت کے باعث ڈیزائنرز کی جانب سے پھولوں کی قدرتی دلکشی اور نفاست وپرکاری کے امتزاج کے ساتھ نت نئے ڈیزائن متعارف کروانے کا سلسلہ جاری ہے آئیے جانتے ہیں کون کون سے پھول اور ان سے تیار کردہ کون سے زیورات خواتین میں زیادہ مقبول ہیں؟ 1۔کنگن گلاب،بیلے اور گیندے کے پھولوں سے تیارکردہ مہنگے اور سستے کنگن دلہن کے لئے اہم تصور کئے جاتے تھے۔ تاہم اب یہ کنگن نہ صرف دلہن پہنتی ہیں بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات میں آئی گئی خواتین،کم عمر لڑکیاں بھی ہلکے اور بھاری دونوں قسم کے پھولوں والے کنگن پہنے نظر آتی ہیں۔جو نہ صرف دیکھنے میں من کو لبھاتے ہیں،بلکہ ہاتھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں۔دوسری جانب شادی بیاہ جیسی تقریبات پر کنگن تمام مہمانوں میں تقریب سے قبل تقسیم بھی کئے جاتے ہیں۔ 2۔ماتھا ٹیکا کلیوں،گلاب اور گیندے کے پھولوں سے تیارکیا گیا خوبصورت ماتھا ٹیکامایوں کی دلہن کے زیورات میں خاصاً اہم تسلیم کیا جاتا ہے۔اگر چہ مشرقی معاشروں میں مایوں کی دلہن مہندی مایوں جیسی تقریبات میں میک اپ برائے نام کرے لیکن پھولوں والے زیورات کا استعمال ضرور کرتی ہے۔ماتھا ٹیکازردلباس میں ملبوس دلہن کے حسن میں چار چاند لگانے کا باعث بنتا ہے ۔ ماتھے ٹیکے کی تیاری کے لئے بیلے کی کلیوں کے آخر میں گلاب یا گیندے کا پھول لٹکادیا جاتا ہے،جو مہندی یامایوں کی رسم ادا کرتے ہوئے پہنایا جاتاہے۔آج کل دلہنوں سمیت دلہن کی بہنوں اور سہیلیوں میں پھولوں والا ماتھا ٹیکا لگانے کا ٹرینڈ بھی خاصاً مقبولیت حاصل کررہاہے۔ 3۔جھمکے پھولوں سے خواتین کے زیورات میں شامل اہم زیور کانوں کے گہنے،جھمکے یا بالیاں بھی تیارکی جاتی ہیں۔ کانوں کی بالیاں خاص طور پر ایک پتلے تار میں بیلے گلاب یا گیندے کے پھول میں پروکربنائی جاتی ہیں۔جنہیں خواتین،لڑکیاں مہندی،مایوں کی تقریب میں زرد،سبزاور نارنجی رنگ کے ملبوسات کے ساتھ بطور خاص استعمال کرتی ہیں دوسری جانب تقریب کی اہم شخصیت دلہن کو بھی یہ زیور پہنایا جاتاہے۔ 4۔ماتھاپٹی خواتین میں جس طرح سونے چاندی اور مصنوعی زیورات سے تیار ماتھا پٹی خاصی مقبول ہے وہیں پھولوں کی ماتھا پٹی بھی خاصی استعمال ہوتی نظر آنے لگی ہے۔ پھولوں والی ماتھا پٹی مختلف قدرتی پھولوں سے بنائی جاتی ہے جو سر پرباندھ دی جاتی ہے ،اس کے بیچ میں گلاب یا گیندے کا پھول لٹکا کر اس کی دیدہ زیبی میں مزید اضافہ کیا جاتاہے۔ 5۔بالوں کی خوبصورتی بڑھانے والے گجرے بالوں کے گجرے بھی ایک ایسا زیور ہیں جنھیں شادی بیاہ کی تقریبات میں استعمال کیا جاتاہے۔یہ گجرے سفید بیلے کی لڑیوں اور گلاب کے پھول کے امتزاج سے بنائے جاتے ہیں،ان میں چمکی بھی لگتی ہے۔ جودیکھنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے بالوں میں لگے ہوئے بھی بہت حسین لگتے ہیں۔اگر خواتین سوئس رول بنا کر یہ گجرے لگائیں تو ہیراسٹائل کی دل کشی اور نفاست میں مزیداضافہ کیا جا سکتاہے۔ 6۔تاج مختلف طریقوں پھولوں،موتیوں اور بیلوں کی مدد سے شادی بیاہ کی تقاریب میں پہنا جانے والا یہ خاص زیور تاج بھی پھولوں سے تیار کیا جاتاہے۔ تاج کے لئے کسی ایک پھول کے بجائے مختلف پھولوں کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے ۔جن کے استعمال سے خواتین کی رعنائی اور دلکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔تاج تازہ اور قدرتی پھولوں کے علاوہ کاغذی پھولوں اور موتیوں سے بھی تیار کئے جاتے ہیں جن کی اہم خوبی یہ ہے کہ یہ قدرتی پھولوں کی طرح ایک آدھ دن میں نہیں مرجھاتے بلکہ انھیں ایک بار کے بجائے کئی بار بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔ 7۔پھولوں کا ہار پھولوں کا ہار مردوں،عورتوں میں بلاتفریق عام ہے حتیٰ کہ حجاج،معتکفین،روزہ کشائی،حفظ القرآن جیسی تقاریب میں بچوں بچیوں کو بھی ہلکا یابھاری پھولوں کا ہار پہنایا جاتا ہے ۔گلاب کے ہار شادی بیاہ اور خوشی کی دیگر تقریبات میں لازم وملزوم سمجھے جاتے ہیں۔بارات میں شامل خاندان کے قریبی مرد رشتے داروں کے گلے میں تھوڑے ہلکے قسم کے گلاب کے ہار پہنا کر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ مختلف طرح کے نت نئے انداز کے ان ہاروں کو دلہن اور دلہن کی امی ،چچیاں ،مامیاں اور دوسرے قریبی رشتے دار خواتین سسرالیوں کو بھی پہناتی ہیں۔ 8۔ولیمے کی دولہن اور پھول وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دنیا نے ترقی کی وہیں پھولوں کے زیورات اور اسٹائل نے بھی ترقی کی ہے ولیمے کی دولہن کے لئے بھی پھولوں کا استعمال ایک خاص انداز میں کیا جاتا ہے ۔آج کل مختلف اقسام کے چھوٹے بڑے انگلش فلاور کے بھی ہیر اسٹائل بنوائے جارہے ہیں۔ولیمے کی دلہن کو خاص طور پر جوڑابنانے کے بعد کان کے پیچھے سے آگے کی طرف تین یا اس سے زائد مختلف رنگوں کے بدیسی گلاب لگا کر سجایا جاتاہے۔

تازہ ترین خبریں