09:48 am
بدلتے زمانے کے ساتھ بدلتا فیشن

بدلتے زمانے کے ساتھ بدلتا فیشن

09:48 am

ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے ویسے تو مرد حضرات بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں مگر عورتیں ابھی بھی مردوں سے بازی لے گئی ہیں بناؤ سنگھار کرنا اپنی اسکن کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا،قلوپطرہ سے لے کر آج کل کے دور کی عورتیں اپنابے حد خیال رکھتی ہیں ۔زمانہ چاہے کوئی بھی ہونیا یا پرانا ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں کبھی گھیروالی اریں،چوڑی دار پاجامے،غرارہ ،شرارہ،اسکرٹس ،ساڑھیاں ،پٹیالہ شلوار،کم اور زیادہ گھیروالے ٹراؤزر،لمبی قمیض،زپ لگی یض،کھلی فراکس ،آگے کچھ پرنٹ تو پیچھے قمیض میں الگ کپڑا وغیرہ وغیرہ ،ہر کوئی زمانے کے حساب سے ویسے ہی کپڑے بنواتا ہے تاکہ وہ زمانے کے ساتھ چلتا ہوا لگے لوگ اسے اولڈفیشن کپڑے وغیرہ وغیرہ کے ناموں سے نہ بلائیں۔
 
ایک زمانہ تھا کہ جب عورتیں اپنے کپڑوں پر طرح طرح کی کڑھائیاں کرواتیں پہلے بازاروں میں چکر لگا کر اچھا کپڑا ڈھونڈنا پھر زمانہ تھوڑا بدلا بازاروں سے عورتوں نے کڑھائی کئے ہوئے کپڑے خریدنے شروع کئے بس دکاندار سے پیسوں پر لمبی بحث ہوتی اور درزی کو کپڑے سلنے دے دیئے نہ الگ سے کپڑا خریدنے کا جھنجھٹ نہ کڑھائی کروانے والے کے پاس جا کر گھنٹوں کھڑے ہونے کا مسئلہ ،پھر چندبوتیک کھلنا شروع ہوئے آہستہ آہستہ عورتوں نے بوتیک جانا شروع کیا خاص طور پر وہ عورتیں جو الگ سے کپڑے پہننے کی شوقین ہوتیں اور اتنے پیسے والی بھی کہ دکاندار سے بحث کئے بغیر کپڑے خرید لیتیں کیونکہ بوتیک پر جو کپڑا جتنے کا ہے اتنے میں ہی ملتا اگر کبھی سال میں سیل لگتی بھی تو وہی چند خواتین سیل پر سے کپڑے خریدتی نظر آتیں نہ ان بوتیک پر زیادہ رش ہوتا نہ دھکم پیل ہوتی پھر آہستہ آہستہ کچھ لوگوں نے اپنے نام کی برانڈ متعارف کروائیں اور آج تک یہ سلسلہ چل رہا ہے بلکہ روز بروز نئے نئے برانڈ سامنے آرہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں