12:10 pm
موسم گرما کی باغبانی

موسم گرما کی باغبانی

12:10 pm

موسم کی بدلتی رت ہماری زندگیوں پر بھی کافی اثر انداز ہوتی ہے۔ہمارا طرز زندگی ،رہن سہن،کھانا پینا سب موسم کے تقاضوں کے مطابق بدل جاتا ہے۔اگر باغبانی کی بات کی جائے تو موسم کے حساب سے نئے پودوں کی کاشت کرنا سود مند ثابت ہوتا ہے ۔موسم گرما کے آتے ہی مارکیٹ میں اس موسم کے پھل ،سبزیوں ،پھولوں اور جڑی بوٹیوں کے بیج دستیاب ہوجاتے ہیں جن کی بدولت آپ با آسانی اپنے باغ میں نئے پودوں کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
 
گرمیوں کے موسم میں مختلف اقسام کی جڑی بوٹیوں کی کاشت کی جاسکتی ہے جو ہمارے روزمرہ کے پکوانوں کو خوش ذائقہ بنانے میں مدد دیتی ہیں۔آپ اس موسم میں تلسی کی مختلف اقسام کی کاشت کر سکتی ہیں۔یہ گرمیوں کے موسم میں خوب پھلتی پھولتی ہے۔Liquorics Basilیعنی ملہتی اور اس کا پھلی دار پودا ایک دلچسپ انتخاب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہرادھنیا بھی با آسانی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ مرچوں کی بھی کثیر اقسام اس موسم کا خاصا ہیں۔موجودہ دور میں کھانوں کا لطف بڑھانے کے لئے ChivesاورGarlic Chives(ایک لہسنی پودا جس کے مسام دار پتے بوٹی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)باکثرت استعمال کئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہلدی ،ادرک،لیمن گراس،Rocket Arugula،سونف،calendulas(جنسcalendulaکا کوئی پودا جس میں پیلے اور نارنجی پھول لگتے ہیں)Chervils(ایک چھتر دار پودا جس کی پتیاں یخنی اور سلاد وغیرہ میں ذائقے کے لئے استعمال ہوتی ہیں)،اجوائنFeverfew(ایک خوشبودار جھاڑی جس کے پتے روئیں دار اور پھول سفید ہوتے ہیں،NasturtiumsاورSummer savouryکے پودے بھی موسم گرما کے لئے بہترین ہیں۔ BorageجسےBorago Officinalisبھی کہا جاتا ہے ایک منفرد اور ذائقے دار جڑی بوٹی ہے۔Borageدراصل جنسBoragoکے گاؤ زبان نامی پودے کو کہتے ہیں جس میں چمکیلے نیلے پھول لگتے ہیں۔Borageکی کاشت کرنا انتہائی آسان ہے۔یہ پودا خودروہوتا ہے یعنی جانوروں،حشرات ،ہوا اور پرندوں کے ذریعے بوائی کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔ ہماری آب وہوا کے مطابق خصوصاً کراچی کے موسم کے حساب سے اس کی کاشت مثالی ہے۔ پاکستان میں اس کی کاشت سال بھر کی جاسکتی ہے۔البتہ حد سے زیادہ گرمی بڑھنے کی صورت میں اس دوران وقفہ کرنا ہی بہتر ہے۔شمالی علاقے جہاں سردیوں میں برف باری ہوتی ہو وہاں اس کی کاشت کے لئے گرمیوں کے موسم کا انتظار کر نا ضروری ہے۔ سردموسم میں Borageکے لئے صبح کے اوقات کی دھوپ مفید ہے تاہم گرمیوں کے موسم میں اسے جزوی چھاؤں درکار ہوتی ہے۔ ساتھ ہی اس موسم میں انہیں روزانہ پانی دینا بھی ضروری ہے۔خودروپودے کو اگر مناسب درجہ حرارت ملے تو یہ خوب پھلتے پھولتے ہیں ۔یہ پودا جھنڈ کی شکل میں ایک سے دو فٹ تک بڑھتا ہے جس کے سبب یہ باغات اور کیاریوں میں نہایت دلکش لگتا ہے۔یوں تو انہیں براہ راست زمین میں لگانا ہی بہترین ہے تاہم انہیں گملوں میں بھی لگایا جا سکتاہے۔ گاؤزبان کے پھول اور نئے پتے کچے کھائے جاسکتے ہیں۔ سلاد میں شامل کئے جائیں تو نہ صرف دیکھنے میں بھلے لگتے ہیں بلکہ سلاد کا لطف بھی دوبالا کر دیتے ہیں۔تاہم زائد عمر کے پتے پالک کی مانند پکائے جاسکتے ہیں۔ گاؤزبان کو ایک بہترین ماحولیات دوست پودا بھی کہا جاتا ہے۔یہ ٹماٹر ،بند گو بھی،Squash(جنسCucurbitaکی کوئی زمینی بیل جس میں کدو جیسی تو نبیاں لگتی ہیں)اور اسٹرابیری کے پودوں کے ساتھ کاشت کرنے کے لئے مثالی پودا ہے۔ یہ خصوصاً ٹماٹر اور بند گوبھی پہ حملہ آور ہونے والے کیڑے مکوڑوں کو دور رکھتا ہے اور دیگر پودوں اور باغات کے لئے فائدہ مند حشرات کو متوجہ کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتاہے۔اس کے پودے میں معدنی،نمک،کیلشیئم اور پوٹاشیئم کی بھر پور مقدار پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ کھاد کی تیاری میں اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔اس میں سفید پھولوں والی اور چند ایک رنگا رنگ پتوں والی قسم بھی پائی جاتی ہے۔غرضیکہ گرمیوں میں جڑی بوٹیاں کاشت کرنے کی دلچسپ سرگرمی اختیار کرکے ان غذائی سپر فوڈز سے استفادہ کیا جاسکتاہے۔

تازہ ترین خبریں