12:12 pm
خوبصورتی قابلیت کا معیار نہیں!

خوبصورتی قابلیت کا معیار نہیں!

12:12 pm

آپ نے محاورہ تو سنا ہو گا کہ خوبصورتی چہرے میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے ۔یعنی ہمیں جو خوبصورت لگے وہی خوبصورت ہوتا ہے۔اسی طرح خوبصورتی قابلیت کا معیار نہیں ہے یعنی کسی انسان کی خوبصورتی سے اس کی قابلیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔کسی شاعر نے جو یہ کہا تھا کہ ہر چہرہ کسی کا حبیب ہوتا ہے تو شاید اس کی وجہ بھی یہی ہو سکتی ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھ فیصلہ کر سکتی ہے۔
کہ اس کے لیے کون خوبصورت ہے۔یہ بات دل کے بہلانے کے لیے تو صحیح معلوم ہوتی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات دماغ کے بہلانے کو بھی درست ہے۔یعنی اگر دماغ کام کررہا ہوتو بھی کیا اپنی پسندکا چہرہ خوبصورت سمجھا جا سکتا ہے ۔کیونکہ خوبصورتی کا بہر طور ہر معاشرے میں کوئی خاص معیار ہوتا ہے اور اسی پیمانے پر انسان کا دماغ پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ جس معاشرے کا فرد ہے ۔ اس نے نقطہ نظر سے کون واقعی خوبصورت ہے یا کسے واقعی خوبصورت سمجھا جانا چاہیے اور اس طرح دل چاہے جو بھی کہے یہ فیصلہ دماغ دل کو بتانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔کہ آپ جس کو خوبصورت سمجھ رہے ہیں وہ آپ کے معاشرے میں خوبصورتی کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔ ہر انسان کی خوبصورتی کا دائرہ الگ ہوتا ہے ۔ہر انسان اپنے آپ میں خوبصورت ہوا ہے ۔مرد کی خوبصورت اس کی شکل میں نہیں اس کے الفاظ میں ہوتی ہے ۔ جو شخص جس خوبصورت انداز میں مخاطب ہوتا ہے وہ اتنا ہی پرکشش لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں ظاہری خوبصورتی اصل اور حقیقی خوبصورتی کے برعکس ہے ۔ہمارے معاشرے میں ظاہر ی خوبصورتی کو حقیقی اور دماغی خوبصورت پر فوقیت حاصل ہے ۔بے شک ظاہری خوبصورتی آنکھ کو پر کشش محسوس ہوتی ہے لیکن صرف اور صرف ظاہری خوبصورتی کو کسی بھی انسان کے قابلیت کا معیار نہیں ہونا چاہیے یہ بات معاشرے میں احساس کمتری پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور معاشرے کے وہ ذہین لوگ جو کہ کسی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں ظاہری خوبصورتی کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ خوبصورتی کو کسی شخص کی قابلیت کا معیار نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی تمام خامیاں اورخوبیاں ایک طرف رکھ کر اس کی ذہنیت کو ترجیح دی جائے ۔کسی بھی شخص میں رنگ ونسل ،ذات پات اور خوبصورتی یا بد صورتی کو اس کے کام میں حائل نہ کیاجا ئے اور یہی ایک اصل اور ترقی پسند معاشرے کی پہچان ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں آج خوبصورت کو قابلیت سے اُوپر سمجھا جاتا ہے ۔ گورے رنگ کا زمانہ کبھی پرانا نہیں ہو سکتا۔گورے رنگ کو آج بھی فوقیت حاصل ہے جو لوگ گورے نہیں ہیں ان کے لئے سائنس نے نت نئے طریقے ایجاد کر دئیے ہیں۔وہ لوگ جن کا رنگ گورا نہیں ہے اب وہ گورے ہونے والے انجکشن لگا کر اپنا رنگ گورا کر لیتے ہیں۔لیکن ظاہری خوبصورتی کے دیوانے اس معاشرے میں کچھ لوگ آج بھی قابلیت کو خوبصورتی کے مقابلے میں زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ مسرت مصباح ایک ایسی مثال ہیں جنہوں نے خواتین کے ایسی طبقے کو متعارف کروایا ہے جو اپنی پہچان خود کھو چکی تھیں۔انہوں نے ان خواتین کو خود اعتمادی دی جو تیزاب گردی سے متاثرہ تھیں۔ان خواتین کو معاشرے میں مقام دلانہ ان کی قابلیت کی بناپر مسرت مصباح نے اپنی مثال سے یہ بات ثابت کی ظاہری خوبصورتی زندگی گزارنے کا معیار نہیں ہے۔پاکستان میں ایسی بہت سی خواتین ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت کی بنا پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ عائشہ فاروق پہلی پاکستانی فائٹر پائلٹ ہیں جنہوں نے خواتین کا ہی نہیں پورے ملک کانام روشن کیا اور یہ بات ثابت کردی ہے کہ عورتیں کسی سے کم نہیں۔ مہک گل ایک چھ سالہ کھلاڑی ہے جس نے انٹر نیشل پلیئربن کر یہ بات ثابت کردی کہ عمرکا قابلیت سے کوئی تعلق ہے۔پروین سعید جس نے اپنا بزنس ”کھانا گھر“کے نام سے شروع کیا جس میں تین روپے میں گرم کھانا فراہم کیا جاتا تھا جس نے ہزاروں غریب لوگوں کی مدد کی اس طرح انہوں نے ایک اور مثال قائم کی کہ خوبصورت انسان کا دل ہوتا ہے اس کی شکل نہیں ۔ اس طرح اور بہت سی مثالیں مغرب میں بھی موجود ہیں۔ ہمارے معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم قابلیت کو خوبصورتی پر فوقیت دیں اور خوبصورتی کو قابلیت کا معیار نہ بنائیں تاکہ ہر فرد آگے بڑھ سکے اور ملک کی ترقی کے لئے کام کر سکے اور ملک وقوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں خود بھی خوبصورتی کی اس مقابلہ بازی سے بچیں اور باقی اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی خود اعتمادی دلائیں تاکہ ہر فرد ترقی کر سکے۔

تازہ ترین خبریں