06:48 am
سولہ سنگھارچاند چہروں کو لگائیں چار چاند

سولہ سنگھارچاند چہروں کو لگائیں چار چاند

06:48 am

بڑی عید کے موقع پر جہاں خواتین مختلف ڈشز پکانے کا شعور رکھتی ہیں وہیں اپنی شخصیت کو زیورات اور آرائشی مصنوعات سے چار چاند لگانے کا موقع بھی ضائع نہیں ہونے دیتی یہ ہماری خواتین کی کمال مہارت ہے کہ وہ ہر فن میں ماہر نظر آتی ہے تو آج ہم آرٹیکل میں بات کرتے ہیں خواتین کی زیبائش اور آرائش کی دراصل قدرت نے سجنے سجانے کا شوق عورت کو کچھ زیادہ ہی فراخدلی سے عطا کیا ہے ابتدائے آفرنیش سے عورت اپنے اس شوق کی تکمیل کرتی چلی آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر عورت زیورات سے اپنے آپ کو سجانا اپنا حق سمجھتی ہے زیورات خواتین کے سنگھار کا لازمی جزو تصور کئے جاتے ہیں اس کے بغیر خواتین کی تیاری ادھوری سمجھی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر بازاروں میں ملبوسات،سینڈ لزکی دکانوں کے علاوہ مصنوعی زیورات کی دکانوں پر خواتین کا انتہائی رش دیکھنے کو ملتاہے۔
 
ایک اندازے کے مطابق مصنوعی زیورات کے استعمال میں پچھلے5سال میں بے حد اضافہ ہوا جس کی اہم وجوہات میں سونے کی قیمت میں اضافہ،امن وامان کی خراب صورتحال اور فیشن کے تیزی سے بدلتے رجحانات ہیں جس کے باعث مصنوعی زیورات کی صنعت کو فروغ مل رہا ہے،عید کے موقع پر خواتین بیش قیمت یا بھاری بھر کم زیورات کے بجائے ہلکے پھلکے زیورات کو ترجیح دیتی ہیں ،عید کے لیے خواتین ہر سوٹ کے رنگ کی مناسبت سے جیولری کی خریداری کرتی ہیں اور حتی الامکان ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم قیمت میں معیاری اور پائیدار جیولری خرید سکیں۔ مقامی صنعتوں نے عید کے سیزن کے لیے مختلف مصنوعی زیورات کے 1000سے زائد نئے ڈیزائن متعارف کرائے ہیں ،پاکستان میں مصنوعی زیورات کی فروخت کا حجم بلند ہے لیکن قیمتی دھات کی طرح مصنوعی زیورات بھی جب سے فی تولہ کے حساب سے فروخت ہونا شروع ہوئے ہیں اس وقت سے متوسط اور کم آمدنی کے حامل خاندانوں کے لیے مصنوعی زیورات کاشوق بھی مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ عید کے موقع پر خواتین ہلکی جیولری خریدنے کو ترجیح دیتی ہیں،مصنوعی جیولری کے فیشن رجحانات میں چھوٹے ٹاپس، کفلنگ ٹاپس،بالیاں ،جبکہ مصری اور ترکش بالیاں کا فیشن عام ہے ،انڈین ،نیپالی،ترکش ،سری لنکن،اور مصری جیولری خریدنے کا رجحان زیادہ ہے جبکہ مقامی جیولری بھی مناسب داموں میں مل رہی ہے،بڑے نگینوں والی مصنوعی انگوٹھیوں کی قیمت 250سے 650کے درمیان ہیں جبکہ چھوٹے نگینوں والی انگوٹھیاں150سے400میں دسیتاب ہیں،مصنوعی جیولری سیٹ ،ہار اور بوندے 500سے3000تک کے درمیان ہیں۔ دھاگے،ربن ،اور پینٹ سے تیار کی گئی جیولری 100سے500کے درمیان میں ملتی ہیں،خواتین کی بڑی تعداد مصنوعی زیورات خریدتی ہے جبکہ بیشتر چاندی کے زیورات خرید نا پسند کرتی ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی جیولری خریدنا پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے ،چاندی کی جیولری کی کچھ مالیت ہوتی ہے اور یہ سالوں استعمال میں رہتی ہے کیونکہ اسے پالش کرایا جا سکتاہے۔ عید کے موقع پر طالبات اور لڑکیوں کی بڑی تعداد اپنے دوستوں کو مصنوعی زیورات تحفے میں دیتی ہیں جس کیلئے وہ پارٹی سیٹس،گفٹ سیٹ ،کنگن،بریسلیٹ،انگوٹھیاں ،بندے اور کڑوں کی زیادہ خریداری کرتی ہیں ،واضح رہے کہ پلاسٹک سے تیار ہونے والی مصنوعی جیولری خوش نما ہونے کے ساتھ کم قیمت بھی ہوتی ہیں جنھیں وہ خواتین زیادہ پسند کرتی ہیں جو جلدی امراض اور الرجی سے بچاؤ چاہتی ہیں ۔ زیورات کے علاوہ گھڑیوں کا شوق بھی کئی خواتین رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کل کئی قسم کی گھڑیا ں بازار میں دستیاب ہیں یہ اچھی کوالٹی کی بھی ہوتی ہیں اور گھٹیاں کوالٹی کی بھی اور درمیانہ کوالٹی کی گھڑیاں بھی موجود ہوتی ہے روز مرہ استعمال کے لیے درمیانہ درجے کی گھڑیاں مناسب رہتی ہیں کسی مشہور اور قابل اعتبار کمپنی کی بنی گھڑی کو ہمیشہ ترجیح دیں۔

تازہ ترین خبریں