10:07 am
بچوں کی حوصلہ افزائی!

بچوں کی حوصلہ افزائی!

10:07 am

رات کے وقت گھر میں جگمگاتے بلب ایڈیسن کی یاد دلاتے ہیں۔سائنس دانوں میں ایڈیسن کانام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ایڈیسن کے بچپن کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ سکول میں پڑھا کرتا تھا،ایک دن ایڈیسن کی ٹیچر نے اسے ایک خط دیا کہ یہ اپنی والدہ کو دے دینا۔ایڈیسن نے گھر پہنچتے ہی وہ خط اپنی والدہ کے حوالے کر دیا۔ماں نے خط کھول کر پڑھا تو اس کے ماتھے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے، لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے اس خط کو با آواز پڑھنا شروع کیا:
 
”آپ کا بیٹا بہت ذہین ہے،اس کے ذہنی معیار کے مطابق ہمارے پاس اساتذہ نہیں ہیں،آپ اس کے لیے کسی اور استاد کا انتخاب کرکے اسے گھر ہی میں پڑھائیے۔ “ یہ کہہ کر ایڈیسن کی والدہ ایڈیسن کی بلائیں لینے لگی۔ یہ سن کر ایڈیسن کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی،اس نے اپنے نئے ٹیچر کے ساتھ دل لگا کر پڑھنا شروع کیا،اس واقعے کے کئی سال بعد ،جب ایڈیسن ایک بڑا سائنس دان بن چکا اور اس کی والدہ کے انتقال کو ایک زمانہ بیت چکا تھا،ایک دن الماری میں پرانے کا غذات میں کچھ تلاش کررہاتھا،اسے الماری میں موجود کا غذات میں وہی خط نظر آیا جو کئی سال قبل اس کی ٹیچر نے لکھا تھا،ایڈیسن نے یاد ماضی دہراتے ہوئے اس خط کو کھولا تو اس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔ ”آپ کا بچہ انتہائی نالائق ہے،ہم اس بچے کو اپنے اسکول میں مزید نہیں پڑھا سکتے،آپ اس کے لیے گھر ہی پر ایک استاد کا انتخاب کریں۔“ یہ الفاظ پڑھ کر ایڈیسن حیرت کا بت بنارہ گیا کہ اس کی ماں نے تو اس سے کچھ اور ہی کہا تھا ،اب ایڈیسن کی سمجھ میں آیا کہ ماں نے میری دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے وہ فرضی باتیں کہیں تھیں۔ذرا تصور کیجیے کہ اگر ایڈیسن کی والدہ بعینہ وہی الفاظ دہرا دیتیں تو شاید ایڈیسن ،آج کا”ایڈیسن جو مشہور سائنس دان ہے،نہ ہوتا“ایڈیسن کو بڑے سائنسدانوں کی صف میں لاکھڑا کر نے والے اس ماں کے حوصلہ افزائی پر مشتمل الفاظ تھے۔ بطور والدین بچوں کے ساتھ ہر وقت ہر معاملے پر محتاط رہنا ہوتا ہے،کیونکہ ہر بات اور ہر عمل کا اثر چھوٹے بچوں پر پڑتاہے۔بچوں کی شخصیت کی تعمیر کے لیے ان کے اردگرد کا ماحول اور ان کے اہل خانہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے ۔بڑھتی عمر کے بچوں کی تربیت کے دوران والدین کو کئی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان کی خود اعتماد ی کو تھوڑی بھی ٹھیس نہ پہنچے۔ کچھ بچوں کو تو حوصلہ افزائی درکار ہی نہیں ہوتی،وہ خود ہی کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں لیکن کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔حوصلہ افزاالفاظ اور مثبت خیالات بچوں کو دیرپا فوائد دلا سکتے ہیں۔غلطی پر اچھے انداز میں سکھانے اور ایک چھوٹا سا اچھا کام کرنے پر بھی ستائشی الفاظ سے بچوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئیے چند ایسے طریقوں کا ذکر کرتے ہیں جو بچوں کو آگے بڑھنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔بچے کے ہر اچھے عمل اور اچھی بات کی تعریف کریں۔چھوٹے لڑکوں کو گفٹس کی صورت میں بلڈنگ بلاکس دیجیے اس طرح بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کی آزمائش میں مدد ملے گی۔لڑکیوں کو کچن کے سامان اور گڑیاں وغیرہ دیجیے۔بلڈنگ بلاکس کے چیلنج میں ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کا ساتھ بھی دیا جا سکتاہے۔ انہیں کوئی چیلنج دیجیے اور اسے پورا کرنے کے لیے کہیے۔مختلف حالات میں بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو پرکھنے کی کوشش کریں۔وہ کوئی مشکل کام کرتے ہیں تو ان کی لازمی تعریف کریں۔بچوں کو خود سے حل نکالنے دیجیے،اس طرح وہ یہ سیکھ پائیں گے کہ والدین کی غیر موجودگی میں مسائل کو کس طرح حل کرنا ہے۔انہیں بور ہونے دیجیے۔تنہا اور بور رہ کر انہیں سیکھنے کو ملے گا کہ وقت اور آرام کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتاہے۔ بہتر ہے کہ ان کے لیے روزانہ کی ایک روٹین مرتب کی جائے۔بچوں کو مختلف ایسی کلاسز میں بھیجے جہاں ان کی جسمانی اور ذہنی مشق ہو سکتی ہو۔انہیں پیش آنے والی مشکلات بتانے کے لیے ان کی ہمت بڑھائیں۔بچوں کو والدین کے مسائل کا بھی علم ہونا چاہیے۔کسی بھی مسئلے کو ساتھ مل کر حل کریں اس طرح انہیں بڑھتی عمر کے ساتھ مسائل کا سامنا کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمدردی کا درس دینے کے لیے بچوں کو گلے لگاتے رہے۔ بچوں کو کام میں مدد کرنے کے لیے کہیے،اس طرح انہیں مختلف چیزیں سیکھنے کو ملیں گی اور وہ وقت کا بہتر استعمال بھی کر سکیں گے۔بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کے لیے ایک فیملی روٹین مرتب کی جائے۔اس طرح انہیں اخلاقی اقدار بھی سیکھنے کو ملیں گی۔رات کو سونے سے پہلے ٹی وی دیکھنے کی عادت پختہ نہ ہونے دیں۔ اس عادت سے جان چھڑانے سے بچے بہتر نیند لے سکیں گے۔بچوں کے ساتھ محبت کا زبانی اظہار کرتے رہیے۔انہیں سکھائیں کہ امتحانوں میں زیادہ اچھے نمبر نہ آنے پر حوصلہ کھونے کی ضرورت نہیں،اس طرح انہیں اندازہ ہو گا کہ مسابقتی ماحول میں ثابت قدم کیسے رہا جائے۔ انہیں مختلف اقسام کی مشق کرنے کے لیے کہیں جس کی مدد سے وہ ذہنی طور پر آرام محسوس کر سکیں اور اس کے ساتھ ہی دباؤ سے پاک روٹین اختیار کریں۔ بچوں کو مطالعے کی طرف مائل کیجیے،اس طرح انہیں بہت سی نئی چیزیں سیکھنے کو بھی ملیں گی۔ہمیشہ ہر کام پر صرف شاباش مت کہیں،بچوں کے نقائص کی بھی نشاندہی کرتے رہیں لیکن یہ نشاندہی نہایت نفاست سے کرنی ہے۔اس طرح انہیں معلوم ہوگا کہ کب وہ غلطی کررہے تھے اور کب وہ ٹھیک کام کررہے تھے۔ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے معالج کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن میں پڑھنے کا بالکل شوق نہ تھا۔ ٹیچر بھی ان سے نالاہی رہتے تھے۔ایک بار ان کے والد نے بڑے پیار سے انہیں سمجھا یا کہ وہ علم کی دولت سے منہ نہ موڑے ،بیٹا جو تم میں صلاحیتیں ہیں اس کے اظہار کے لیے تعلیم کا حصول ضروری ہے۔ تعلیم حاصل کرکے تم جلد بڑے آدمی بن جاؤ گے۔چنانچہ انہوں نے پڑھائی میں دلچسپی لینے اور باقاعدہ سکول جانے کا وعدہ کیا،جب یہ آٹھ برس کے تھے تو والدہ نے گھر پر پڑھانے کی خاطر ایک استاد کی خدمات حاصل کیں۔ قابل استاد جانتے تھے کہ پڑھائی سے جی چرانے والے بچوں کو تعلیم دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کھیل کھیل میں تعلیم دی جائے۔اس طرح بچہ تعلیم میں دلچسپی لینے لگتاہے۔چنانچہ انہوں نے پہلا سبق ہی دیتے ہوئے ان سے پوچھا”بیٹے!ذرا سوچو کہ میرے پاس ساٹھ لڈو ہیں اور دس ٹوکریاں۔یہ بتاؤکہ ہر ٹوکری میں مجھے کتنے برابر برابر لڈورکھنے چاہئیں۔ “ بچے نے کچھ سوچا اور کہا”آرے یہ تو بہت آسان سوال ہے۔ہر ٹوکری میں چھ لڈوآئیں گے۔“شاباش!تم نے صحیح جواب دیا۔ٹیچر خوش ہو کر بولے۔بچے نے کہا۔”ارے واہ مجھے تو پڑھتے ہوئے مزا آرہا ہے۔آپ اور سوال پوچھیے۔“اس طرح ایک بچے کی حوصلہ افزائی اور کھیل کھیل میں پڑھائی سے ایک بیزار بچے کو تعلیم کی طرف مائل کر لیا گیا ۔اپنے استاد کی حوصلہ افزائی سے یہ کلاس میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے لگے۔ یہاں سب حیران ہوں گے کہ یہ شخصیت کون ہے․․․․؟تو آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ ہمارے ملک کا فخر مشہور معالج ادیب الحسن رضوی ہیں۔دنیا میں ہر شخص یہ چاہتاہے کہ لوگ اس کے بارے میں اچھے خیالات رکھیں۔ہر شخص اس بات کا متمنی رہتاہے کہ اس کے ساتھی اس کی حوصلہ افزائی کریں۔یہ ہی وجہ ہے کہ حوصلہ افزائی کی بدولت اس قدر کا میابیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔یہ حوصلہ افزائی ہی ہے کہ سڑکوں پر اخبار بیچنے والے لڑکے کروڑ پتی بن گئے اور کمزور ونحیف لوگ طاقتور پہلوان بن گئے۔حوصلہ افزائی نے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیے ہیں۔