11:42 am
بالوں کی خوبصورتی اور صحت

بالوں کی خوبصورتی اور صحت

11:42 am

خواتین کے بال ان کی شخصیت اور نسوانی حسن کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔عورتوں کو اپنے بالوں کو زیادہ سے زیادہ دلکش بنائے رکھنے سے قدرتی طور پر بہت گہری دلچسپی ہوتی ہے۔اس کے لیے وہ طرح طرح کے لوشن،شیمپو اور صابن استعمال کرتی ہیں جن میں سے بیشتر ان کے بالوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا نقصان پہنچاتے ہیں ۔ہر عورت خاص طور پر نوجوان لڑکیاں اپنے بالوں کے حسن اور صحت پر خاص توجہ دیتی ہیں۔
 
ویسے بھی عمدہ بال نسوانی حسن اور وقار میں اضافے کے لیے بہت ضروری ہیں۔اچھے بالوں کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ وہ گھنے،چمک دار،نرم ،لمبے اور سیاہ ہوں۔اُن میں خشکی اور کھر دراپن نہ ہو۔سر کے بالوں کا گرنا ان میں کھجلی ،میل یا اور کوئی خرابی بہ آسانی اور جلد دور نہیں کی جاسکتی،کیونکہ اس کا تعلق جسم کی مجموعی صحت سے ہوتاہے۔ جو خواتین بالوں کو حسین اور صحت مند رکھنا چاہتی ہوں ان کے لیے سب سے پہلی اور ضروری بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی غذا پر مناسب توجہ کریں۔ اچھے بالوں کا تعلق اچھی جلد حیاتین اور صحت تغذیہ سے ہے۔اگر خواتین مناسب اور عمدہ غذا استعمال کرتی ہیں تو بالوں میں کسی طرح کی خرابی کا کوئی سبب نہیں رہتا۔عمدہ،نرم اور گھنے بالوں کے لیے ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جس میں حیاتین اور پروٹین کے ساتھ ساتھ کیلسیم کی مناسب مقدار شامل ہو ۔گویا وہ تمام غذائیں استعمال کیے بغیر زیادہ عرصے تک بالوں کی مناسب نگہداشت اور صحت ممکن نہیں جن میں بھر پور تغذیہ نہ ہو۔ آج کل ایک اور چیز خواتین کے بالوں کو نقصان پہنچارہی ہے۔جو خواتین مغرب اور فیشن کی اندھی تقلید میں عام اشتہاری چیزیں خرید کر بالوں میں استعمال کرتی ہیں،ان کو اکثر بالوں کی کئی طرح کی خرابیوں کی شکایت ہو جاتی ہے۔سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بالوں میں کوئی تیز اور غیر محفوظ شیمپو،لوشن یا کریم نہ لگائی جائے۔یہ اچھی طرح معلوم کر لیا جائے کہ کریم ،لوشن یا شیمپو میں بالوں کی جڑوں اور جلد کو نقصان پہنچانے والے اجزاء تو شامل نہیں ہیں۔ آج کل نت نئی خوشبوؤں والے اور رنگا رنگ اکثر اشتہاری ہیئر لوشن،صابن،کریمیں اور شیمپو مضر ہوتے ہیں اور اکثر خواتین اس سے دھوکا کھا جاتی ہیں۔ایسی اشتہاری اشیاء میں عموماً مضر مصنوعی خوشی بوئیں،تیز اور زود عمل کیمیائی اجزاء اور چونا اور پٹرول شامل ہوتاہے جو بالوں میں کھر دراپن اور خشکی پیدا کر دیتا ہے۔ان کی قدرتی نرمی اور چمک آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے اور بال بڑی تیزی سے گرنے اور سفید ہونے لگتے ہیں۔ ایسی تمام غیر قدرتی اور کیمیائی تالیفی”حسن افزا“چیزوں سے پر ہیز بالوں کا حسن بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ بالوں کو تیز گرمی،چونا ملے ہوئے صابنوں،مصنوعی خوش بوؤں اور کیمیائی لوشنوں یا شیمپوؤں سے ہمیشہ بچانا چاہیے۔ان مضر اشیاء کے بجائے بالوں کو اکثر وبیشتر قدرتی نباتاتی تیلوں یا نیم گرم پانی سے دھونا چاہیے۔ بالوں کی صحت ،دلکشی اور قدرتی نرمی کے لیے بعض قدرتی جڑی بوٹیوں مثلاً کلیاں کوہی(Rosemary)پارسلے یا اجوائن،بابونہ،پیپر نمٹ یا فلفلی پودینے کی پیتاں،دار چینی کے ٹکڑے یا سفوف اور سمندر سوکھ(Sage)کا استعمال نہایت مفید اور موثر قرار دیا جاتاہے۔ان چیزوں کو لیپ کی صورت میں یا پانی میں گھول کر استعمال کیا جا سکتاہے۔اس کے علاوہ گلاب کی پتیاں کچل کر بھی بالوں میں لگائی جاسکتی ہیں۔ پاکستان میں آملہ،سکا کائی اور میتھی کے بیج عام طور پر اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ان اشیاء کو بالوں میں لگا کر چند منٹ بعد پانی سے اچھی طرح دھو لیں،پھر بالوں کو قدرتی طور پر خشک ہونے دیں۔بالوں کی صحت اور دلکشی کے لیے اور بھی قدرتی طریقے ہیں مثلاً: 1۔بالوں میں دن میں کئی بار باقاعدگی سے کنگھی کی جائے اور میل اور ٹوٹے ہوئے بالوں کے ٹکڑے صاف کردئیے جائیں۔ ایسی کنگھی یا کنگھیااستعمال کیا جائے جو کسی حد تک سخت ہو ،اور اس کے دندانے تیز،لیکن زیادہ نوک دار نہ ہوں ورنہ بالوں کے آس پاس کی جلد کو نقصان پہنچے گا۔بالوں کی صفائی اور گر ہیں دور کرنے کے لیے انہیں کبھی کھینچنا نہیں چاہیے۔ 2۔کسی دوسرے شخص کا کنگھااستعمال کرنے سے ہمیشہ گریز کیا جائے۔یہ حفظ صحت کے منافی ہے۔ 3۔بالوں کو تیز دھوپ سے بچایا جائے اور ان کو نہاتے ہوئے سردھوتے وقت بہت تیز گرم یا بہت تیز سرد پانی سے نہ دھویا جائے بلکہ نیم گرم یا نارمل قسم کا پانی استعمال کیا جائے۔ 4۔بالوں کو مصنوعی طور پر بجلی کی گرمی یا برقی برشوں سے نہ سکھایا جائے۔ان کو قدرتی ہوا،نرم تولیے سے اور ہلکی دھوپ میں سکھائیے۔بالوں کو سکھانے والے برقی ہیئر ڈرائر بالوں کی قدرتی چمک کو نقصان دیتے ہیں۔ان کی مصنوعی گرمی اور رگڑبالوں کی جڑوں کو کمزور کرتی ہے۔ 5۔بالوں کی صفائی کے لیے کنڈیشنر(Conditioner)استعمال نہ کریں اور نہ لوہے کے تاروں کے برش سے کام لیں۔ سب سے بہتر ہڈی ،سینگ یا ہاتھی دانت اور لکڑی کے کنگھے یا کنگھیاں ہیں۔ 6۔سر کی جلد سے ایک قدرتی چکنائی نکل کر بالوں کو نرمی اور چمک نیز تغذیہ فراہم کرتی ہے۔اس قدرتی عنصر کو بجلی یا کسی اور گرمی سے ضائع نہ کریں۔مصنوعی لوشن اور شیمپو وغیرہ بالوں کو وقت سے پہلے سفید اور کھردرا کرتے ہیں۔دہی،آملہ ،سکا کائی کی پھلیاں،ریٹھے یا بیسن کو مل مل کر دھونا بہت ہی مفید ہے اور ان چیزوں کے استعمال سے بال عرصے تک سیاہ ،نرم اور گھنے رہتے ہیں۔