11:32 am
لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو پہلی مرتبہ131برس پہلے متعارف کروایا گیا تھا۔

لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو پہلی مرتبہ131برس پہلے متعارف کروایا گیا تھا۔

11:32 am


آمنہ ماہم
لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو پہلی مرتبہ131برس پہلے متعارف کروایا گیا تھا۔تب سے لپ اسٹک نے نہ صرف عورت کی ظاہری شکل کو تبدیل کیا ہے بلکہ اس کے معاشرتی کردار پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔اس سے قطع نظر کہ ملک غریب ہو یا امیر ،دنیا بھر میں خواتین میک اپ میں لپ اسٹک کو خاص اہمیت دیتی ہیں اوریہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا میک اپ کا آئٹم ہے۔
 
سن1883ء میں پہلی مرتبہ لپ اسٹک کی موجودہ شکل کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں ہونے والی ایک عالمی نمائش میں متعارف کروایا گیا۔ایمسٹرڈم کی نمائش کے چند ماہ بعد لپ اسٹک کی تجارتی بنیاد پر دریافت میں پیرس کے خوشبو ساز ادارے کے دوماہرین کاسمیٹک شامل تھے ۔ سن1884ء میں یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہلی مرتبہ لپ اسٹک کو میک اپ کے ایک اہم جزو کے طور پر کمرشل انداز میں متعارف کروایا گیا تھا۔ شروع میں اس کو مشکوک نظروں سے دیکھا گیا اور اس کا استعمال صرف تھیئٹر یکل اداکارائیں،رقاصائیں اور جسم فروش خواتین کرتی تھیں۔سن 1912ء میں امریکا کی فیشن ایبل خواتین نے لپ اسٹک کو قبول کر لیا تھا۔ابتداء میں لپ اسٹک نہ صرف مہنگی بلکہ ایک لگژری آئٹم تھی۔عوامی سطح پر اس کو پذیرائی گزشتہ صدی میں بیس کی دہائی میں”خاموش فلموں“کے دور میں ملی۔ سن1893ء میں ہی امریکا میں قائم ہونے والے فیش اسٹورسیئر(Sears)کی فیشن کیٹلاگ میں بھی لپ اسٹک کو شامل کیا گیا تھا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سن1912میں امریکاکی فیشن ایبل خواتین نے لپ اسٹک کو قبول کر لیا تھا۔ یورپ میں فیشن ایبل خواتین نے امریکی خواتین کے لپ اسٹک استعمال کرنے کے نو سال بعد اسے اپنانا شروع کیا تھا۔سن1921ایک ایسا سال تھا جب اس وقت کے تجارتی اور سیاسی منظر پر اجارہ داری کے حامل ملک برطانیہ کے دارالحکومت لندن کی خواتین نے اسے پسند کرنا شروع کیا اور یہی اس کی عام مقبولیت کا باعث بنا۔ انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی کے دوران لندن فیشن کا گھر خیال کیا جاتا تھا۔ تھا۔جرمن خواتین میں بھی لپ اسٹک حالیہ برسوں میں بہت مقبولیت اختیار کر چکی ہے۔2012ء میں78فیصد جرمن عورتوں نے لپ اسٹک یا لپ گلوس کو استعمال کیا۔ اس طرح جرمن خواتین نے میک اپ کے اس لازمی جزو پر64ملین یوروخرچ کیے۔لپ اسٹک استعمال کرنے والی جرمن خواتین کی یہ تعداد سن2011کے مقابلے میں 5.6فیصد زیادہ بنتی ہے۔ لپ اسٹک کی131ویں سالگرہ کے موقع پر تیز رنگ متعارف کروائے گئے ہیں اور ان میں سرخ رنگ خاص طور پر اہم ہے۔فیشن ایکسپرٹ رینے کوخ کے مطابق یہ خواتین میں اعتماد اور کامیابی کی علامت ہے۔سن2012 میں78فیصد جرمن عور توں نے لپ اسٹک یا لپ گلوس کو استعمال کیا ۔ہزاروں سال پہلے قد یمی مصری تہذیب میں فراعین کی ملکائیں بھی ہونٹوں پر سرخ رنگ کا استعمال کرتی تھیں۔ ان میں قلو پطرہ اور نفراتیتی بھی شامل ہیں۔اس وقت سرخ رنگ کو چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں محفوظ رکھا جاتاتھا اور انگلی یا پھر برش کی مدد سے ہونٹوں پر لگایا جاتا تھا۔ اس وقت یہ عقیدہ تھا کہ ہونٹوں پر رنگ لگانے سے شیطانی قوتیں انسان کے جسم میں نہیں گھس سکتیں۔ سولہویں صدی میں انگلستان میں سفید پاؤڈر سے چہرے کو سفید اور سرخ رنگ سے ہونٹ رنگنا اشرافیہ طبقے کا معروف فیشن تھا۔ عام طور پر ایک لپ اسٹک کا60فیصد حصہ موم اور 30 فیصد مختلف آئلز پر مشتمل ہوتاہے ۔اس کے علاوہ اس میں مختلف خوشبوئیں ،رنگ اور کبھی کبھار سیلیکون بھی استعمال کیا جاتے ہیں۔ لپ اسٹک میں استعمال ہونے والا رنگ ’کوکی نیل‘نامی چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے حاصل کیا جاتاہے ۔میکسیکو میں پائے جانے والے ان کیڑوں کو خشک کر کے قرمزی رنگ بنایا جاتاہے۔