11:15 am
عورت کے سماجی وقار میں حجاب کا کردار

عورت کے سماجی وقار میں حجاب کا کردار

11:15 am


مکتب اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان ایک حجاب اور حد بندی قائم کی گئی ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کی دنیا مردوں کی دنیا سے بالکل جدا اور مختلف ہے۔ نہیں عورتیں اور مرد معاشرے میں اور کام کی جگہوں پر ایک ساتھ ہوتے ہیں ہر جگہ ان کو ایک دوسرے سے کام پڑتے ہیں۔ سماجی مسائل کو مل جل کر حل کرتے ہیں، جنگ جیسے مسئلے کو بھی باہمی تعاون و شراکت کے ساتھ کنٹرول کرتے ہیں اور ایسا انہوں نے کیا بھی ہے،
 
کنبے کو مل جل کر چلاتے ہیں اور بچوں کی پرورش کرتے ہیں لیکن گھر اور خاندان کے باہر اس حد بندی اور حجاب کو ہر حال میں ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ اسلامی طرز زندگی کا بنیادی نکتہ ہے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہی فحاشی پھیلے گی جس میں آج مغرب مبتلا ہے۔ اگر اس نکتے کا خیال نہ رکھا جائے تو عورت اقدار کی سمت اپنی پیش قدمی کو جو آج ایران میں نظر آ رہی ہے، جاری نہیں رکھ سکے گی۔
 

حجاب کا مطلب عورت کو سب سے الگ تھلگ کر دینا نہیں ہے۔ اگر حجاب کے سلسلے میں کسی کا یہ نظریہ اور تصور ہے تو یہ سراسر غلط نظریہ ہے۔ حجاب تو در حقیقت معاشرے میں مرد اور عورت کو ضرورت سے زیادہ اختلاط سے روکنا ہے۔ ضرورت سے زیادہ قربت معاشرے، مرد اور عورت دونوں بالخصوص عورت کے لئے تباہ کن نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ حجاب کو ملحوظ رکھنے سے عورت کو اپنے اعلی روحانی مقام پر پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور وہ سر راہ موجود نازک موڑ پر لغزش سے محفوظ رہتی ہے۔

 

عورتوں کے دفاع کے سلسلے میں کیا جانے والا ہر اقدام بنیادی طور پر عورت کی عفت و پاکیزگی کی حفاظت پر مرکوز ہونا چاہئے۔ عورت کی عفت و پاکیزگی فی الواقع دوسروں کی نظر میں حتی خود شہوانی خواہشات میں غرق انسانوں کی نظر میں عورت کا احترام اور وقار قائم کرتی ہے۔ اسلام عورت کی عفت و پاکدامنی پر خاص تاکید کرتا ہے۔ البتہ مردوں کی پاکدامنی بھی ضروری چیز ہے۔ عفت صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے، مردوں میں بھی پاکدامنی ہونی چاہئے۔

 

جہاں عورتوں کو حجاب سے محروم کر دیا جاتا ہے، جہاں عورت کو عریانیت اور برہنگی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے وہاں سب سے پہلے تو خود عورت کی سلامتی اور اس کا تحفظ اور دوسرے مرحلے میں مردوں اور نوجوانوں کی سلامتی خطرات کی زد پر آ جاتی ہے۔ معاشرے اور ماحول کو محفوظ اور صحتمند رکھنے کے لئے اور ایسی فضا قائم کرنے کے لئے اسلام نے حجاب کا اہتمام کیا ہے جس میں عورت بھی معاشرے میں اپنی سرگرمیاں انجام دے سکے اور مرد بھی اپنے فرائض سے عہدہ بر آ ہو سکے۔