09:57 am
نسوانی پاؤں کی خوبصورتی

نسوانی پاؤں کی خوبصورتی

09:57 am

”احساس تکلیف حسن کا قاتل ہے۔“یہ فقرہ کسی ادیب نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے حسن وآرائش نسوانی کے بات میں ایک بے مثال نکتہ پیش کیا ہے۔فصیل اس جمال کی یہ ہے کہ تکلیف کے احساس سے چہرے کے پٹھے اور اس کی رگیں سکڑ جاتی ہیں اور اس طرح چہرے کی خوشنمائی اور اس کی دلفریبی میں فرق واقع ہو جاتاہے جب صورت یہ ہے تو لازم ہے کہ ایک عورت اپنے جسم کے کسی حصے کو مبتلائے تکلیف نہ ہونے دے۔
 
نیچے ہم یہ بتائیں گے کہ نسوانی پاؤں کے سبب کیا کیا تکالیف ہو سکتی ہیں۔اور اس کا سدباب کس طرح ممکن ہے۔اس کے ساتھ ہی چند ایسے طریقوں پرروشنی ڈالی جائے گی۔جن سے پاؤں اور ان کے ناخن وغیرہ حسین بن سکیں عموماً پاؤں کے پنجوں میں تکلیف پیدا ہو جاتی ہے۔قیام حسن کیلئے ضروری ہے کہ عورت پاؤں کے پنجوں کی طرف مناسب توجہ دے اس کے لیے بہترین تدبیر یہ ہے کہ جلد کو نرم کرنے والی کریمیں استعمال کریں بادام کا تیل پنجوں پر چلنے سے پنجوں کی سختی میں کمی آجاتی ہے اور تکلیف میں نمایاں فرق ہو جاتاہے ۔ بعض عورتوں کے پاؤں میں گھٹے پڑجاتے ہیں عام طور پر یہ تکلیف مردوں کے پاؤں میں ظاہرہوتی ہے مگر بعض عورتیں بھی اس میں مبتلا ہوجاتی ہیں اس کودور کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ناخن گیر سے گٹے کو چھیل ڈالا جائے ،بلکہ کئی گھنٹے تک اسے پانی میں تر کرکے جب یہ نرم ہو جائے تو الگ کرنے کی کوشش کی جائے یہ اکثر بالکل الگ اتر جاتاہے۔پنجوں کے ناخن تراشتے رہنے چاہئیں ورنہ عین ممکن ہے کہ ٹھوکر لگ جائے اور ناخن ٹوٹ جانے سے پنجہ زخمی ہو جائے بعض ماہرین حسن کی یہ رائے ہے کہ عورتوں کو پنجے کے ناخن گول نہیں بلکہ چوکور تراشنے چاہئیں۔ یہ مغربی طریقہ ہے اور ماہرین حسن جو اس طریق کو رواج دینا چاہتے ہیں۔اور ان کی ہی صورت صدیوں سے مقبول چلی آرہی ہے تو اس کے ساتھ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنے میں تامل نہیں کہ یہ ملک پرانے طریقوں کو چھوڑتا جاتاہے اور مغربی معاشرت سے اس درجہ متاثر ہوتا جارہا ہے کہ اس کی ہر شے اختیار کر رہا ہے بہر صورت یہ اپنی اپنی پسند اور اپنے اپنے مذاق کا سوال ہے ہم اس سلسلے میں نئی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔ جس عورت کے پنجوں میں جس تراش کے ناخن اچھے معلوم ہوں وہ وہی تراش اختیار کرے۔ پاؤں کے ناخنوں کی میلی جھلی ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور دور کرنی چاہیے گرم پانی کا غسل کرنے کے بعد ناخن گیر سے آہستہ آہستہ جھلی کو دور کر دیا جائے۔میلی جھلی کو دور کرنے کی ایک اور کیمیائی ترکیب بھی ہے،نارنگی کے درخت کی ایک پتی سی شاخ لیکر اس پر روئی لپیٹ دی جائے اور پھر اس کو ہائیڈروجن پروآکسائیڈ میں ڈبوکر ناخن پر پھیرا جائے اس عمل سے میل کی جھلی فوراً دور ہو جائے گی۔ اور ناخن صاف شفاف اور چمکدار نکل آئیں گے۔نسبتاً عورت کا پاؤں مرد کے پاؤں سے زیادہ نرم ونازک ہوتاہے اگر رات کو سوتے وقت ہاتھ کی ہتھیلی سے پاؤں کو ملا جائے تو پاؤں کو سکون محسوس ہو گا۔اور پاؤں کی رگوں میں خون کا دوران تیز ہوجائے گا۔مالش کرتے وقت اگرروغن بادام یا کھوپرے کا تیل تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جائے تو اس سے بہت تسکین ہو گی ۔ کبھی کبھی زیادہ چلنے پھرنے یا کسی تقریب کے موقع پر کام کاج میں حصہ لینے کی وجہ سے زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے پاؤں میں درد ہونے لگتاہے۔اور پاؤں کی ہڈیوں اور پٹھوں میں جلن سی محسوس ہونے لگتی ہے اور ان دونوں تکلیفوں کو دور کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے،صبح اُٹھ کر درد یا جلن محسوس ہوتو ایک بار پھر تیل کی زور زور سے مالش کی جائے اور تلوں میں تیل ملا جائے کام دھندا کرنے سے پہلے کچھ دیر آرام کر لیا جائے پھر مالش کیے ہوئے پاؤں پر موزے چڑھا کر کام دھندا شروع کیا جائے ۔ چند منٹ میں سب تکلیف دور ہو جائے گی۔ پاؤں کی تکلیف سے محفوظ رکھ کر کر حسن وآرائش قائم رکھنے کے لیے بہترین طریق عمل یہ ہے کہ ٹھیک جوتا پہنا جائے،جوتا تنگ ہو نہ ڈھیلا۔بعض عورتیں تنگ مگر خوبصورت جوتے پہنتی رہتی ہیں۔ان کے پاؤں دکھتے رہتے ہیں ،مگر اس لالچ میں خوبصورت جوتے ان کیلئے وجہ آرائش ہیں وہ انہیں اتارتی نہیں،یہ سراسر غلط طرز عمل ہے۔جو حسن صحت کیلئے سخت مضر ہے،جوتے ڈھیلے ہوں گے تو پاؤں میں چھالے پڑیں گے،تنگ ہوں گے تو پاؤں کی جلد کو رگڑکرزخم ڈال دیں گے۔

تازہ ترین خبریں