08:24 am
جنسی کردار

جنسی کردار

08:24 am

اسلام میں صنفی کردار دو قاعدہ اصولوں کے ساتھ رنگا رنگ ہیں: (i) خواتین اور مردوں کے درمیان روحانی مساوات؛ اور (ii) یہ خیال ۔ کہ عورتوں کے لیے نسوانیت ہے اور مردوں کے لیے مردانگی . [28]

 
عورتوں اور مردوں کے درمیان روحانی مساوات سورت الحمد (33:35) میں بیان کی گئی ہے: "بے شک جن لوگوں نے خدا کو تسلیم کیا اور عورتیں جو تسلیم کر تی ہیں اور جو ایمان لائے اور (عورتیں ) جو ایمان لائیں اور جو لوگ فرمابردار ہیں اور عورتیں جو فرماں بردار ہیں اور جو لوگ سچے ہیں اور عورتیں سچّی ہیں اور جو لوگ زکوۃ دیتے ہیں اور عورتیں جو زکوۃ دیتی ہیں اور جو روزہ رکھتے ہیں اور عورتیں جو روزہ رکھتی ہیں اور جنہوں نے اپنی عزت کی حفاظت کی اور عورتوں جنہوں نے اپنی عزت کی حفاظت کی اور جو خدا کو یاد رکھتے ہیں اور جو عورتیں خدا کو یاد کرتی ہیں تو خدا نے ان کے لیے بخشش اور وسیع اجر تیار کر رکھا ہے۔" - قرآن کے 33 آیت، 'اتحاد' اسلام اور عورتوں کے بنیادی نظریات کو تکمیلیت کا اشارہ دیا جاتا ہے: جیسے کائنات میں سب کچھ جوڑی میں پیدا ہوئے ہیں، انسانیت بھی ایک جوڑی میں پیدا ہوئی ہے (سورۃ المریری 51:49) - جو ایک دوسرے کے بغیر بھی مکمل نہیں ہو سکتی. اسلامی نظریاتی سوچ میں، کائنات ہر چیز کے جوڑوں کے درمیان ہم آہنگی سے قائم ہے۔ اس کے علاوہ، سب ظاہری حالات و واقعات، اندرونی نووا مینہ اور بالآخر خدا کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام جس زور پر مبنی / مذکور پولیوتا (اور اس وجہ سے تکمیل) پر ہوتا ہے وہ سماجی افعال کی علیحدگی میں ہے۔عام طور پر، ایک خاتون کے گھر میں فعال ہوتی ہے جہاں وہ غالب شخصیت ہوتی ہے - اور ایک آدمی کا متعلقہ علا قه بیرونی دنیا ہے. [بہتر ذریعہ کی ضرورت ہے] تاہم، یہ علیحدگی اتنی سخت نہیں ہے جتنی دیکھتی ہے، عملی طور پر، دونوں اسلام کی ابتدائی تاریخ اور معاصر دنیا میں بیشبہ مثال ہیں - اُن مسلم خواتین کی جنہوں نے عوامی زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے، بشمول سلطان، شاہنشاہ، ریاستی منتخب کردہ سربراہ اور امیر کاروباری عورتوں سمیت. اس کے علاوہ، اس بات کو تسلیم کرنا اہم ہے کہ اسلام میں گھر اور خاندان، اس دنیا اور معاشرے کی زندگی کے مرکز پر مضبوطی سے واقع ہوتا ہے: ایک شخص کا کام، نجی دائرے پر سبقت نہیں لیتا. قرآن نے سورہ 4 (النساء) کے علاوہ مسلم خواتین، ان کے کردار، فرائض اور حقوق کے لیے بہت سے آیات کو وقف کیا. اسلام میں مسلمان عورتوں و غیر مسلم عورتوں کے جنسی کردار مختلف ہیں. [حوالۂ ضرورت] مسلم مردوں کو غلام عور تیں رکھنے کا حق ہے،جو کے فوجی مہم کے دوران قبضہ کی جاتی تھیں۔ مثلاً غیر مسلموں و قبائل کے خلاف جہاد۔ جنوبی یوروپ و افریقہ سے لیکر وسطی ایشیا و ہندوستان تک ، غلام عورتیں رکھنا قدرتی ما نا جاتا تھا۔ غلام عورتوں کو اُن کی رضامندی کے بغیر بیچا جاتا تھا،اُن سے بچے پیدا کرنے کی توقع کی جاتی تھی، شادی کے لیے مالک کی رضا درکار ہوتی تھی، اسلامی قانون کے نظریہ میں اُن سے ہونے والا بچہ خود بہ خود مسلمان تصور کیا جاتا تھا جہاں تک اگر اس کا باپ مسلمان ہے۔