08:43 am
’نوکری کر لو یا ماں بن جاؤ، تیسرا کوئی آپشن نہیں‘

’نوکری کر لو یا ماں بن جاؤ، تیسرا کوئی آپشن نہیں‘

08:43 am

ماں چاہے گھر کی چار دیواری میں رہتی ہو یا گھر سے باہرنکل کر کام کرتی ہو ،اپنے بچے اسے ہر طرح عزیز ہوتے ہیں اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں، لیکن کیا کریں جناب ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں سبھی دوسروں کو اپنی نظر اور ذہنی کیفیت سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
 اگر کوئی ماں گھر پر رہتی ہے تو اسے اکثر یہ سننے کوملتا ہے کہ تم سارا دن کرتی کیا ہو؟ اور اگر کہیں ایک ماں گھر سے باہر نکل کر نوکری کر لے تو اسے کہا جاتا ہے کہ آپ گھر پر رہ کر بچے کیوں نہیں پالتیں؟ غرض  انسان نہ کسی حال میں خوش رہتا ہے نہ رہنے دیتا ہے۔ تمہید لمبی ہو گئی مدعے کی جانب آتے ہیں ۔گذشتہ چند روز سے پشاور کی ایک صحافی زینت بی بی اور ان کا چھ ماہ کا بیٹا خبروں میں گردش کر رہے ہیں۔ تقریباً سبھی چینلز، اخبار اورویب سائٹس  بچے کی وجہ سے  ان کےنوکری سے استعفیٰ دینے کی خبر کو ہمدردی اورحقوق نسواں  کے نام پر چلا کر اچھے بھی بن رہے ہیں اور ریٹنگ بھی بڑھارہے ہیں حالانکہ میں خود بطور صحافی اور ایک ماں ہونے کے ناطے جانتی ہوں کہ زینت کی خبریں چلانے والے تمام اداروں میں ایسے بہت سے لوگ بیٹھے ہیں جو خود ایک خاتون صحافی یا گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی خاتون ،جو ماں بھی ہو اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔زینت بی بی کی خبر دیکھی تو مجھے یاد آنے لگا۔ بہت سی تلخ یادیں، مجبوریاں اور ساتھ کام کرنے والوں کا سفاک رویہ اور پیٹھ پیچھے میرے کیر یئر کے حوالے سے ان کے فیصلے کانوں میں گونجنے لگے۔زندگی میں اب تک پاکستان میں  دو مرتبہ ایسا تجربہ ہوا جب مجھے یہ ٹینشن نہیں ہوئی کہ کام پر بچہ ساتھ نہیں جا سکتا تو اسے کہاں چھوڑوں گی؟ پہلا تجربہ تب ہوا جب انڈپینڈنٹ اردو جوائن کیا اور ٹریننگ کے لیے اسلام آباد گئی۔ میں نے سفر سے پہلے  ادارے کو بتایا کہ میرا بیٹا ساتھ ہی آئے گا کیونکہ تین ،چار روز کے لیے اسے کوئی نہیں رکھے گا۔ مجھے نہ صرف اسے ساتھ لانے کی اجازت ملی بلکہ اس کے رہنے سہنے کا خرچہ بھی ادارے نے  اٹھایا۔ یو ں ایک ادارے نے ایک ماں کو اعتماد دیا کہ اس کے کام میں اس کا بچہ رکاوٹ نہیں۔