09:18 am
’کشمیری خواتین باہر نکلتے وقت بدصورت دِکھنے کی کوشش کرتی ہیں‘

’کشمیری خواتین باہر نکلتے وقت بدصورت دِکھنے کی کوشش کرتی ہیں‘

09:18 am

ہم سنجیدہ موضوعات پر بات چیت نہیں کر رہے تھے۔ یہ پاکستان، سری لنکا، بھوٹان، افغانستان، ملائیشیا، بھارت، نیپال، برطانیہ، سویڈن اور آسٹریلیا سے آئے ہوئے صحافیوں کی عام سی بیٹھک تھی۔ کامران کے ان الفاظ سے یہ ہلکی پھلکی گفتگو اچانک تھم گئی اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہم اس کے جواب میں کیا کہیں۔

کامران بھی نیپال میں ہونے والی اس میڈیا ورکشاپ میں شامل تھے جہاں اس انڈسٹری کو درپیش مسائل کے علاوہ انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور ان تمام مسائل کو زیر بحث لایا گیا جو اس مہذب دنیا کو درپیش تھے۔

کامران نے بھی انہی مسائل پر بات کی، خاص طور پر متنازع اور جنگ زدہ خطوں میں جہاں صحافیوں کو حکومتی جبر، تشدد، گمشدگی، مار پیٹ اور پیلٹ گنز سے ملنے والے زخموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحافتی ساز و سامان کا نقصان اس کے علاوہ ہے جب کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ انہیں مشتعل مظاہرین کے غضب کو بھی سہنا پڑتا ہے۔

انہوں نے ورکشاپ کے کئی سیشنز میں بڑے پرسکون انداز میں خطاب کیا اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بات کی، جن کا وہاں کے عوام اور صحافیوں کو طویل عرصے سے سامنا ہے۔ انہوں نے وادی میں کئی ماہ سے انٹرنیٹ کی بندش کے باعث صحافیوں کو درپیش مسائل پر بھی بات کی جس کے باعث وہ وقت پر خبر بھیجنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے پولیس کے قہر کا بھی ذکر کیا جس کا سامنا میڈیا کے لوگوں کو اپنے صحافتی فرائض کی ادائیگی کے دوران اکثر کرنا پڑتا ہے۔ وہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بڑے اطمینان سے بات کر رہے تھے اور حاضرین بھی غور سے ان کی بات سن رہے تھے۔