11:40 am
طلاق :

طلاق :

11:40 am

         محسنِ نسواں حضرت محمدﷺنے فرمایا: تمام جائزکاموں میں مجھے سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے۔ 
طلاق کو اس حیثیت سے ناپسند یدہ قرار دیا گیا ہے کہ اسلام کے مزاج میں رشتوں کو جوڑ نا اور رشتوں میں محبت اور مٹھاس پیدا کرنا ہے لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے اور شوہر بیوی کے ایک ساتھ رہنے میں زندگی اجیرن ہونے لگے تو طلاق ہی احسن بن جاتی ہے اور اسلام اس کیلئے احسن طریقہ بیان کرتا ہے، جو تفصیل سے سورہ ٔطلاق میں موجود ہے۔
 
اِسلام نے جس طرح مردوں کو طلاق کا حق دیا ہے اسی طرح عورتوں کو خلع کا حق دیا ہے۔ اگر شوہر اور بیوی کو اندیشہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ٹھہر ائے ہوئے حقوق اور واجبات ادانہیں ہو سکیں گے تو باہمی رضامندی سے ایسا ہو سکتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحد گی حاصل کرلے۔ قرآن کہتا ہے:اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدوں پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت کچھ دے کر شوہر سے علیحد گی حاصل کرلے، یادر کھو یہ اللہ کی ٹھہر ائی ہوئی حد بندیاں ہیں، پس ان سے باہر قدم نہ نکالو اور اپنی حدوں کے اندررہو، جو کوئی اللہ کی ٹھہر ائی ہو ئی حدبندیوں سے نکل جائیگا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو ظلم کرنیوالے ہیں(البقرہ 229)۔ عورت چاہے تو اپنے نکاح نامے میں کچھ شرطیں رکھ سکتی ہے کہ ان کے پورے نہ ہو نے کی صورت میں وہ شوہر سے طلاق حاصل کر لے۔اس طرح بجاطور پر کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے قدم قدم پر عورت کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ بیو گی کی حالت میں نکاح کا حق : اسلام سے پہلے بیوہ کو بڑی ہی گری ہوئی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ہندمیں بھی قدیم زمانے میں بیوہ کو منحوس قرار دیا گیا تھا۔ آج کے سماج میں بھی بیوہ کی بے چار گی کا حال سب کو معلوم ہے۔ اسلام کا عورت کے اوپر یہ احسان ہے کہ اسے اس بیچارگی کی حالت سے نکالا ۔ اسلام میں بیوہ کی شادی کی نہ صرف یہ کہ اجازت ہے بلکہ حکم ہے کہ ان کو شادی کرنے سے نہ روکواور ان کی دوسری جگہ شادی کر نے میں مدد کرو۔ اسلام پوری انسانیت کیلئے ، بطورخاص کمزورطبقے کیلئے انصاف اورامن وآشتی کا پیام لے کرآیاہے۔ یہ وہ دین ہے جس نے کھول کھول کر انسانی زندگی کیلئے احکا مات دئیے ہیں۔ خاص طور سے عورت کی زندگی کیلئے ایسے احکامات دئیے ہیں جن سے اس کیساتھ نا انصافی نہ ہو اور معاشرہ میں اس کا درجہ بلند ہو۔وہ اس میں آرام و سکون کی زندگی گزار سکے۔