12:06 pm
گرمیوں میں اچھی جلد کے لئے

گرمیوں میں اچھی جلد کے لئے

12:06 pm

جاڑوں کی خشک راتیں اور ٹھنڈے دن رخصت ہو گئے۔اس موسم میں خشکی جلد کی دشمن بنی ہوئی تھی تو بڑھتی گرمیوں میں سورج کی کرنیں اسے نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہیں۔جلد،انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔اور انسانی صحت کی حفاظت کے علاوہ اس کی شخصیت کے نکھارنے میں یہ بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔گرمیوں میں دھوپ کے اثرات زیادہ تر خواتین اور بچوں کی جلد پر پڑتے ہیں۔ دھوپ میں زیادہ عرصے بے احتیاطی سے چلنے پھرنے سے جلد سرخ ہوجاتی ہے۔پھنسیاں نکلنے لگتی ہیں اور خارش بھی ہوتی ہے۔
جاڑے گئے تو ان کے ساتھ دھوپ تاپنے کے مزے بھی گئے،اس لئے اب دھوپ میں دیر تک بیٹھنے کا خیال بالکل ترک کر دیجئے۔ویسے بھی اس کی تپش آپ کو سائے کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دے گی۔آپ نے احتیاط نہ کی تو پھر دھوپ سے الرجی کی شکایات آپ کے حصے میں آئیں گی،جس کی سب سے نمایاں علامات جلد کی سرخی،پھنسیاں اور خارش ہوتی ہیں۔


تکلیف شدہ ہو تو ایگز یما کی شکایت بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
جلد کے دو دشمن
سورج سے نکلنے والی الٹراوائلٹ شعاعوں کو جلد کا دشمن قرار دیا جاتاہے،لیکن جلد کا دوسرا دشمن ہم خود فراہم کرتے ہیں۔یہ وہ سنگھاری یا حسن افزاء اشیاء ہیں جو مختلف کریموں وغیرہ کی صورت میں ملتی ہیں اور انہیں استعمال کرکے جلد کے لئے مسائل پیدا کیے جاتے ہیں۔
اس لئے ان اشیاء کے استعمال کے سلسلے میں ماہر جلد سے مشورہ بہت ضروری ہے۔یہ ضروری نہیں کہ آپ کی سہیلی کے لئے جو حسن افزاء سامان موافق ثابت ہو رہا ہے وہ آپ کے لئے بھی مفید ہو۔
سامان حسن
پرانے زمانے کا یہ خیال درست ہے کہ اصل حسن جلد کے لئے نیچے سے نکل کر اوپر ظاہر ہو کر دمکتاہے، یعنی جسم کو عمدہ اور ضروری غذائی اشیاء کی فراہمی سے حسن میں نکھار پیدا کیا جا سکتاہے۔
اگر آپ نے جاڑوں میں گاجریں،کینو، مالٹے ،ٹماٹر ،مٹر ،شلجم،پالک ،میتھی اور مولی وغیرہ شوق سے کھائے ہیں تو آپ نے گویا اپنے لئے سامان حسن کر لیا ہے۔حیاتین الف(وٹامن اے)،حیاتین ج(وٹامن سی)اور حیاتین ہ(وٹامن ای)جلد کو خصوصی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ان کی وجہ سے جلد کے خلیات زیادہ بنتے ہیں اور جلد کے لئے یہ گویا ڈھال کاکام دیتے ہیں۔ان کی وجہ سے ہم جلدی شکایات سے محفوظ رہتے ہیں۔

آپ کے علم میں ہے کہ حیاتین ج اور حیاتین ہ جسم کو مضر فری ریڈیکلز کی دست برد سے محفوظ رکھتے ہیں۔یہی حیاتین جلد کو سورج کی مضرتوں سے بھی محفوظ کر دیتے ہیں اور ان کا یہ حفاظتی عمل جسم کے اندر سے ابھر کر جلد کی حفاظت کرتاہے۔ان کی وجہ سے جلد الرجی کی شکایات سے بھی محفوظ رہتی ہے تو ایگز یما جیسے تکلیف دہ مرض کے اسباب اور خطرات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔

جلد محفوظ ہوتو زیادہ عرصے جو ان بھی رہتی ہے۔ترقی یافتہ ملکوں کی طرح اب ہمارے ہاں بھی ان حیاتین کے کیپسول ملنے لگے ہیں۔قدرتی ذرائع کے علاوہ ان کے استعمال سے بھی جلد کی حفاظت،اس کے نکھار اور اس کی صحت وجوانی کا سامان کیا جا سکتاہے۔
اس کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں صاف پانی زیادہ پینا چاہیے اور لوکی،ترکای،کریلے،کھیرا،ککڑی، کلفے کے ساگ وغیرہ کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے اور روغنی غذاؤں ،چینی گڑ وغیرہ کا استعمال کم کر دینا چاہیے۔
بیرونی طور پر بھی کھیرے، ککڑی کے ٹکڑوں کی جلد پر مالش ضروری اور مفید ہوتی ہے۔تازہ سرخ ٹماٹر کے ٹکڑوں سے بھی جلد کی مالش سے وہ نرم،ملائم اور نکھری رہتی ہے۔موسمی پھلوں میں تربوز، خربوزہ وغیرہ کا استعمال بھی ایک بہترین تدبیر ثابت ہو تی ہے۔جلد بہت اہم عضو ہے،اس کی حفاظت کرکے اسے محفوظ اور پر کشش رکھیے۔
 

تازہ ترین خبریں