01:20 pm
صحت مند بالوں کا انحصار عمدہ غذا پر ہے

صحت مند بالوں کا انحصار عمدہ غذا پر ہے

01:20 pm

خوبصورت اور چمکدار بال ایک قیمتی سرمایہ ہیں جن کی حفاظت کرنا لازم ہے ساتھ ہی یہ ایک ورسٹائل فیشن کے لوازمات میں بھی شامل رہتے ہیں کیونکہ صرف چند منٹوں میں انہیں رنگ سکتے ہیں ،لہر دار بنا سکتے ہیں ،جوڑے کی شکل یا خوبصورت چوٹیوں کی مختلف شکلوں میں ڈھال سکتے ہیں تاہم ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے ساتھ ہی خراب غذا، فضائی آلودگی، ایئر کنڈشننگ اور مرکزی ہیٹنگ کا نظام انہیں سر کا تاج بنانے کے بجائے آپ کے لئے ایک مصیبت بنا دیتے ہیں اس لئے صحت مند بالوں کے قدرتی حسن کو بر قرار رکھنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کی دیکھ بھال کو روزانہ کا معمول بنالیں اور کسی مسئلہ کے پیدا ہوتے ہی اس کا فوری تدارک کرلیں۔ بالوں کی ساخت انسانی بال عموماً ایک پروٹین پر مشتمل ہوتے ہیں جسے ”کیراٹن“ کہتے ہیں اس کے علاوہ اس میں تھوڑی سی نمی اور ان معدنیات کا شائبہ بھی پایا جاتا ہے جو ہمارے جسم کے اندر ہیں۔ بالوں کا نظر آنے والا حصہ ”سافٹ“کہلاتا ہے جو مردہ خلیوں پر مشتمل ہے اس کا زندہ حصہ صرف جڑ ہے جسے ”ڈر مل پا پیلا“ کہتے ہیں یہ چند یا کی جلد کے نیچے ایک نلکی نما گڑھے میں جڑی ہوتی جسے ”فالیسل“ کہتے ہیں۔ ”ڈر مل پا پیلا “خلیوں سے مل کر بنی ہے جنہیں ہمارے جسم میں دوڑنے والا خون خوراک بہم پہنچاتا ہے۔ ہر بال کی تین تہیں ہوتی ہیں ۔بیرونی تہہ ”کیوٹیکل“ کہلاتی ہے جو بال کے لئے حفاظتی ڈھال کا کام دیتی ہے اس میں چھوٹی چھوٹی پرتیں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوتی ہیں جیسے مچھلی کے جسم پر چڑھے ہوئے چھلکے ۔اگر کیوٹیکل کی پرتیں ہموار ہوں اور ایک دوسرے کے اوپر صفائی کے ساتھ جڑی ہوں تو بال ملائم ،ریشمی اور چمکدار نظر آتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ پرتیں ٹوٹ گئی ہیں یا کیمیاوی طور پر انہیں نقصان پہنچ گیا ہے تو بال کی اوپری سطح کھردری ہو جاتی ہے ان کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے وہ بھر بھرے ہو جاتے ہیں اور آسانی سے الجھ جاتے ہیں۔ کیوٹیکل کے نیچے کی دوسری تہہ ”کورٹیکس“ کہلاتی ہے جو ریشے جیسے خلیوں سے ملکر بنی ہے یہی تہہ بالوں کو مضبوط بناتی ہے اور ان میں لچک پیدا کرتی ہے اسی کورٹیکس میں رنگوں کی نسیجیں ہوتی ہیں جنہیں ”میلانن“ کہتے ہیں اور جو بالوں کو ان کا قدرتی رنگ بخشتی ہیں ۔ ہر بال کے وسطی حصہ کو ”میڈ ولا“ کہتے ہیں ۔جو بہت ملائم کیراٹن خلیوں سے ملکر بنا ہے اور ان خلیوں کے درمیان خالی جگہ ہوتی ہے ۔میڈولا کی اصل کارکردگی کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بالوں کے کورٹیکس اور کیوٹیکل کو غذائیت اور دوسری اشیاء بہم پہنچاتی ہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صحت میں تبدیلی آنے سے بال اتنی جلدی کیوں متاثر ہو جاتے ہیں۔ بالوں کی قدرتی چمک ان کے اپنے کنڈیشنر کی بدولت ہوتی ہے جسے ”سبیم“ کہتے ہیں یہ ایک روغن ہے جس کے اندر موم اور چکنائی کے علاوہ ایک ایسی قدرتی اینٹی سیپٹک شے شامل ہوتی ہے جو انفیکشن کے خلاف، بالوں کی حفاظتی کرتی ہے ۔”سبیم “ نامی روغن ،”سی بیشس“ غدود پیدا کرتے ہیں جو جلد کے نچلے حصے میں موجود ہیں یہ غدود بالوں کی جڑوں کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ ان کے اندر ”سیبم“ داخل کرتے رہتے ہیں ۔ یہ روغن بالوں کے پورے شافٹ پر حفاظتی خول کی تہہ چڑھا دیتا ہے کیوٹیکل کی پرتوں کو ہموار اور چکنا رکھتا ہے اور قدرتی نمی اور لچک قائم رکھنے میں بالوں کی مدد کرتا ہے ۔کیوٹیکل کی بالائی سطح جنتی زیادہ ہموار ہو گی بالوں سے اتنی ہی زیادہ روشنی منعکس ہو گی اور ان میں چمک پیدا ہو گی اسی لئے سیدھے بالوں کے مقابلے میں لہر دار یا گھنگھریالے بالوں میں چمک پیدا کرنا کہیں زیادہ مشکل نظر آتاہے۔ بعض غیر معمولی حالات میں ،جیسے ہارمونز کے زیادہ فعال ہو جانے کی صورت میں بیشس غدود بہت زیادہ سبیم یا روغن پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں اس کے نتیجے میں بالوں میں چکنائی یا چپچپاہٹ بڑھ جاتی ہے اس کے برعکس اگر کم مقدار میں روغن پیدا ہوتو بال خشک اور کھردرے ہو جاتے ہیں۔ بالوں کی افزائش کا چکر بالوں کا زندہ حصہ صرف اس کی جڑ ہے جسے ڈرمل پا پیلا کہتے ہیں اور یہ کھوپڑی کی جلد کے اندرونی حصہ میں ہوتی ہے ۔ جب بال بڑھ کر جلد کے اوپری حصہ میں پہنچتا ہے تو اس کے خلیئے مردہ ہو چکے ہوتے ہیں بالوں کی افزائش تین مرحلوں سے ہو کر گزرتی ہے ۔پہلے مرحلے میں بال بڑے فعال طریقہ سے بڑھتا رہتا ہے ،دوسرا تغیر پذیر مرحلہ جس میں بال کی افزائش تو بند ہو جاتی ہے لیکن جڑ کی کارکردگی جاری رہتی ہے اور تیسرے مرحلے میں بالوں کی افزائش مکمل طور پر ر ک جاتی ہے اس تیسرے مرحلے میں جڑ کے اندر نہ تو افزائش کا عمل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری سر گرمی ،بلا آخر نیا بال اگتا ہے اور وہ پرانے بال کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے اور پھر اس نئے بال کی افزائش کا پرانا چکر شروع ہو جاتاہے۔

پہلا مرحلہ دو سے چار برس کے عرصے تک جاری رہتا ہے ،دوسرا مرحلہ صرف پندرہ سے بیس دن تک جاری رہتا ہے جبکہ تیسرے مرحلے کا دورانیہ نوے سے ایک سو بیس دن پر محیط ہے ۔کسی بھی ایک مقررہ وقت پر انسان کے بالوں کا 93فیصدی حصہ پہلے مرحلے میں ہوتا ہے ،ایک فیصدی دوسرے مرحلے میں ،جب کہ 6فیصدی تیسرے مرحلے میں رہتا ہے ۔پورے بدن کے بالوں کی مانند کھوپڑی کے بال بھی جسم کے ہارمونز کی سر گرمیوں سے متاثر ہوتے رہتے ہیں اور جینیاتی طور پر ان کا قدرتی پروگرام کچھ اس طرح کا ہے کہ عام انسان کی پوری زندگی میں ان کی افزائش کا چکر 24-25مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔

خوراک کی اہمیت
آپ جو کچھ بھی کھاتی ہیں اس کا اثر آپ کے بالوں پر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے ۔ہمارے پورے جسم کی طرح صحت مند اور چمکدار بالوں کا انحصار عمدہ غذا پر ہے ۔ایسی خوراک جو بالوں کی افزائش اور ان کی صحت کو بر قرار رکھنے کے لئے تمام ضروری غذائیت مہیا کر سکے۔ باقاعدہ ورزش بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس سے دوران خون تیز ہوتا ہے اور اس طرح خون کے ذریعے بالوں کی جڑوں کو زیادہ آکسیجن اور غذائیت پہنچتی رہتی ہے ۔
خراب خوراک اور ورزش کی کمی بالوں پر فورا اثر انداز ہو جاتی ہے یہاں تک کہ معمولی سی بیماری میں بھی بال لٹک جاتے ہیں اور ان کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔
خوراک میں پروٹین کی زیادہ مقدار شامل کرنا ضروری ہے،جو ہمیں سفید گوشت، پولٹری ،مچھلی، پنیر، انڈوں ،خشک میوہ جات اور دالوں سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ان کے علاوہ مچھلی ،بادام ،دہی اور پنیر کے استعمال سے بال لمبے بھی ہوتے ہیں اور ان پر قدرتی چمک بھی آجاتی ہے۔

کیراٹین کی افزائش کے لئے چھلکے دار اناج اور قدرتی روغن رکھنے والی خوراک بہت ضروری ہے کیونکہ بالوں کا بیشتر حصہ کیروٹین پر ہی مشتمل ہوتاہے۔بیج ،وٹامنز، معدنیات اور پروٹین کے حصول کا بہت بڑا ماخذ ہیں ۔دن میں روزانہ پھل کے کم سے کم تین ٹکڑے ضرور کھائیں کیونکہ یہ ریشے ،وٹامنز اور معدنیات سے بھر پور ہیں ۔سیچوریٹڈ (Saturated) چکنائی کھانے سے پرہیز کریں۔
(ایسی چکنائی جو کمرہ کے درجہ حرارت پر جم جاتی ہو) یہ چکنائی سرخ گوشت ،فرائی کئے ہوئے کھانے اور ڈیری کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے ۔پوری کریم پر مشتمل دودھ کے بجائے مکھن نکلا دودھ استعمال کریں اسی طرح کم چکنائی پر مشتمل پنیر اور دہی کھایا کریں ۔گھی کی جگہ سورج مکھی ،مکئی یا زیتون کا تیل استعمال کریں ۔یہ تمام کھانے وہ ساری غذائیت بہم پہنچاتے ہیں جو آپ کے بالوں کی صحت اور چمک کے لئے لازم ہیں۔

صحت مند بالوں کے لئے چند مشورے
چائے اور کافی کا استعمال کم کردیں۔ یہ بہت زیادہ محرک ہوتی ہیں اور ہمارے اعصابی تنفس اور دل کے نظام پر اثر انداز ہو کر ہمارے بدن سے پانی اور دوسری اہم غذائیت کے اخراج کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ معدنیات کو جذب کرنے والی جسم کی اہلیت کم کرتی ہیں جو ہمارے بالوں کے لئے بہت ضروری ہیں ۔
معدنی پانی (دن میں چھ سے آٹھ گلاس) نباتی چائے اور شکر ملائے بغیر پھلوں کا جوس خوب پئیں۔
باقاعدہ ورزش خون کی گردش کو تیز کر دیتی ہے ۔اس طرح تمام خلیوں کو خون کی رسد بڑھ جاتی ہے اور وہ غذائیت وافر مقدار میں پہنچنے لگتی ہے جو خلیوں کی مرمت اور ان کی افزائش کے لئے ضروری ہے ۔بعض مانع حمل ادویہ جسم میں بی کمپلیکس وٹامن اور زنک کی مقدار کم کر دیتی ہیں اگر آپ مانع حمل گولیوں کے استعمال کے بعد بالوں میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں ۔

زمینی حقائق: بالوں سے بڑھنے کی رفتار 12ملی میٹر یا نصف انچ فی ماہ ہے ۔
ایک بال کی عمر تقریباً سات برس ہے ۔
اگر کوئی شخص اپنے بال کبھی نہ کٹوائے تو وہ گرنے سے پہلے تقریباً 107سینٹی میٹر یا 42انچ تک بڑھتا رہے گا۔
مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے بال زیادہ ہوتے ہیں۔
موسم گرما اور عالم خواب میں بالوں کی افزائش کی رفتار زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔
16سے 24برس کی عمر کے دوران بالوں کی افزائش کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے۔