11:34 am
عام آدمی سے آم آدمی تک  (جزبیہ شیریں) 

عام آدمی سے آم آدمی تک  (جزبیہ شیریں) 

11:34 am


کہتے ہیں کہ زندگی کی ہر صبح اک نئ امید لے کر آتی ہے۔ صبح کا ہر سورج اک نئ امید نئ امنگ کے ساتھ مشرق سے طلوع ہوتا ہے وہ یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر اندھیرے کے بعد اک اجالا ہے۔ یہ جملہ اس وقت لکھتے ہوئے میں کشمکش کا شکار ہوں کہ یہ امید اور امنگ کا آفتاب گزشتہ بہتر سالوں سے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی طلوع ہو رہا ہے پر نجانے کیوں وہ امید وہ نئ روشنی وہ امنگ پاکستانی قوم کے لیے صبح روشن نہیں ثابت ہوئ؟؟؟ 
اس سوال کے جواب تو بہت ہوں گے ٹھیک اسی طرح جیسے ہماری ہر زیراقتدار حکومت اپنے اقدامات کے جوابات دیتی نظر آتی ہے۔ موجودہ حکومت کو دیکھیں تو انکا ہر جواب پچھلی حکومتوں کی کارکردگی میں پوشیدہ ہے۔ 
مگر مجھے یہاں کسی سوال کا جواب نہیں چاہیے کیونکہ میں وہ عام آدمی ہوں جو پچھلے بہتر برسوں سے اپنے کیۓ گئے سوالات پر کبھی جابر تو کبھی غاصب حکمرانوں کی تسلیم اور انکے دکھاۓگۓ سبز باغوں کا شکار ہے۔ میں وہ عام آدمی ہوں جس کی زندگی ۱۹۴۷سے ۲۰۲۰تک بلکل عام سی ہے جیسے ۱۹۴۷ سے پہلے تھی۔ میں آج بھی اپنے بنیادی حقوق کی تلاش میں ہوں مجھے آج بھی اکثر سڑک پر چلتے ھوۓڈر لگتا ھے ویسے ہی جیسے مہاجرین کو ۱۳ اگست ۱۹۴۷ کی شب کو سفر کرتے ہوئے لگا ہو گا۔ 
 
میں وہ عام آدمی ہوں جس نے کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے لالچ میں خود کو ان لوگوں کے سپرد کیا ان کے میرے نمائندے ہیں تو کبھی تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہو کر۔ اور صرف اتنا ہی نہیں میں نے تو وردی والوں کو بھی اپنا اصلی ہمدرد سمجھا۔ یہ عام آدمی دراصل ھے کیا؟ یعنی میں ہوں کیا؟ کون ہوں؟ یہ نمایندے جانتے بھی نہیں ہیں۔ "عام آدمی" انکے لئے دراصل ایک اصطلاح ہے جو کہ وقت کے ساتھ تبدیل ہو کر "آم آدمی" رہ گئی ہے۔ "عام آدمی" برسراقتدار اور اقتدار سے محروم دونوں ہی قسم کے نمائندوں کے لیے "آم آدمی" ہے جسے آم کی طرح اسوقت شوق سے کھایا جاتا ہے جب سیزن ہو جب وہ پک کر تیار ہو اور اسے کھانے کے بعد چھلکے اور گھٹلی سڑک پر پھینک دیے جاتے ہیں یا کچرے کے ڈبے میں۔ جبکہ کچھ آموں کو وقت سے پہلے پکانے کے لیے پال لگایا جا تا ہے اور جب "عام آدمی" کے نمائندے اس آم کے موسم سے جی بھر کے لطف اندوز ہو جاتے ہیں تو دوسرے موسم کا انتظار کرتے ہیں۔ ہم عام آدمیوں کو تحفظ, بجلی, پانی, گیس, آٹا اور چینی چاہیے۔ ہمیں بس ہمارے وہ حقوق چاہیں جو ہمیں احساس دلائیں کہ ہم "آم آدمی" نہیں بلکہ "عام آدمی" ہیں ۔