10:41 am
گھروں میں باغیچوں کا آغاز کیسے ہوا - باغبانی

گھروں میں باغیچوں کا آغاز کیسے ہوا - باغبانی

10:41 am


لان کے بغیر پاکستان میں کوئی گھر مکمل نہیں ہوتا۔فرنیچر،پردوں اور دوسرے سامان کی طرح لان بھی اب ہر گھر کی بنیادی ضرورتوں میں شمار کئے جانے لگے ہیں۔ہوا کی ”صفائی“ اور آکسیجن کی فراہمی کے علاوہ یہ درختوں کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں، پرانے زمانے میں رقبے سستے اور جگہ زیادہ تھی،چنانچہ لان اور گھروں کے باہر اگائے جانے والے درخت بھی جنگلات کی کمی کو کسی حد تک پورا کرنے میں مددگار تھے۔گھروں میں خاص قسم کے درخت صحت بخش بھی ہوتے ہیں۔کہتے ہیں بعض بیماریاں بھی درختوں اور پودوں سے دور بھاگتی ہیں،نیم کے درختوں کی کیا بات ہے،یہ ملیریا کا علاج ہیں ،ہوا بھی صاف کرتے ہیں۔لیکن وہ کون تھا جس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات آئی کہ مکان میں ایک اچھا سا لان بھی ہونا چاہئے؟یہی سوچ کر اس نے پودوں کی بہار لگائی اور پھر یہ روایت چل پڑی۔
 
ہمیں پہل کرنے والے اسی شخص کی تلاش ہے۔کہا جاتا ہے کہ لان کا آغاز مکان کے ساتھ ہی بے ضرر جانوروں کی افزائش کے لئے جگہ بنانے سے 1540ء کی دہائی میں ہوا۔جبکہ لفظ ”لان“ کا استعمال پہلی مرتبہ 16ویں صدی میں ہوا۔ایک طرف انسان جہاں جدید ترین رہائشی سہولتوں کے استعمال کی جانب بڑھ رہا تھا وہیں نیچر کے بھی قریب تر رہنے کی خواہش بھی پوری کرتا رہا۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اچھے سے اچھے لان کی تیاری میں برطانوی باشندوں نے انتھک محنت کی۔ برٹش ہارٹی کلچر کا سب سے اہم پہلو لان ہیں۔اچھی لینڈ سکیپنگ لان کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہے۔بہت کچھ پڑھنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ 18ویں صدی میں لان گھروں کا لازمی حصہ بننے شروع ہوئے ان کا آغاز کس نے کیا،تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے۔اس زمانے میں بڑے بڑے لانز میں جانوروں کی افزائش کی جانے لگی۔بھیڑ،بکری اور نجانے اس قسم کے کون کون سے معصوم جانور بھی رکھے جانے لگے۔ہرن بھی لان کی زینت بنتے تھے۔ لیکن ان کا گھروں میں داخلہ بند تھا۔