11:10 am
تھوڑی سی سمجھ داری سے بچوں کی پرورش آسان ہو جائے گی - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

تھوڑی سی سمجھ داری سے بچوں کی پرورش آسان ہو جائے گی - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

11:10 am

بچوں کی اچھی نگہداشت ہر دور میں ایک اہم معاملہ رہا ہے۔بہتر معاشی حالت کے لئے والدین کی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں۔ماؤں کے پاس بچوں کی نگہداشت کے لئے وقت کم ہے۔نئے شادی شدہ جوڑوں کے لئے جو کسی وجہ سے گھر کے بڑے بزرگوں کے سائے سے دور تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔نوزائیدہ بچوں کی پرورش بہت بڑا مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔انسان کا بچہ دیگر جاندار کے بچوں سے مختلف ہے اس میں سیکھنے کا عمل رفتہ رفتہ ہوتا ہے اور بہت دیر میں یہ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے پر قادر ہو تاہے ۔
بچہ اپنی خواہشوں کے اظہار اور ان کے لئے زبان کا استعمال،ماحول،گھر کے افراد،ہم عمر بھائی بہنوں اور بعد میں دوست و احباب کے ساتھ سیکھتا ہے۔
پیدائش کے بعد نوزائیدہ بچے کی جسمانی صلاحیت سرد و گرم کو جھیلنے کے لائق نہیں ہوتی ۔اس کا جسم ابتدائی دنوں میں سرد ی اور گرمی دونوں سے ہی فوراً متاثر ہوتا ہے۔اسے ماں کی آغوش کی گرمی مستقل چاہیے۔

 
ابتدائی دنوں میں نوزائیدہ بچہ بیس سے بائیس گھنٹے سوتا ہے۔اس درمیان بچے کو ہر ایک دو گھنٹہ پر غذا کی ضرورت ہوتی ہے مدر فیڈنگ سب سے بہتر طریقہ ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کی نشوونما میں ماں کا دودھ سب سے بہتر ہے۔بچے کو دودھ پلانے سے ماں کو رحم کا کینسر ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور خواتین کو رحم کی دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔ بچے کو گود میں لے کر سر کو اونچا کرکے دودھ پلانا چاہیے لیٹ کر دودھ پلانے سے بچوں کے کان بہنے کی بیماری ہو جاتی ہے۔بچے کے جسم پر زیتون یا خالص سرسوں کے تیل کی نرم ہاتھوں سے مالش کرنی چاہیے۔غذا دینے اور تیل مالش کا کام آرام کے وقفے کا ایک وقت مقر ر کرکے کرنے سے بچے کو اور ماں دونوں کو راحت اور آرام ملتا ہے۔ تکیہ گھر میں اس طرح بنائیں کہ اس کے درمیان کا حصہ نسبتاً گہرا اور تکیے کے کنارے اونچے ہوں بچے کو کچھ دیر چت پھر کروٹ دے کر سلائیں ورنہ تکیے کے استعمال سے سر ایک جانب سے چپٹا ہو جائے گا۔ بچے کے رونے کی آواز اور کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔کسی تکلیف کی وجہ سے بچہ اگر روتا ہے تو ہاتھ اس تکلیف کے مقام پر کئی بار لے جاتا ہے۔بچے کے پیٹ میں گیس بھر جائے تو تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔اجابت کا نہ ہونا،پیشاب میں کمی ،کان میں تکلیف ،چنونے کے کاٹنے جیسے اسباب بھی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔بچے کے اوڑھنے بچھونے،منہ صاف کرنے کے کپڑوں کا صابن سے روزانہ دھلنا ضروری ہے۔ بچوں کی انگلیوں کے درمیان گلے اور بازو میں اکثر ماؤں کے لمبے بال پھنس جاتے ہیں۔ان سے جسم میں خراش آسکتی ہے۔بچے کو منہ ڈھک کر نہ سلائیں اگر ایسا ضروری ہو تو باریک کپڑے کا ٹکڑا یا چھوٹی مچھر دانی کا استعمال کریں۔نیپی کو صابن سے اچھی طرح دھویا کریں۔موسم کے اعتبار سے بچوں کے کپڑے ڈھیلے اور نرم استعمال کریں جس سے بچہ آرام محسوس کرے نائٹ پاجامہ و دیگر لباس کا استعمال نہ کریں۔ الاسٹک کمر پر خون کے دوران کو روک دیتا ہے۔ ہلکے ازار بند یا بٹن والے کپڑوں کا استعمال کریں۔ بچہ جب چھ ماہ سے بڑا ہو جائے تو خصوصی خیا ل رکھیں۔ہلکی غذا دینا شروع کر دیں۔اس کو دال کا پانی،سبزی کا ابلا ہوا سوپ،کھچڑی اور نرم چاول کھلانے کی عادت ڈالیں۔سات ماہ کے بعد عام طور پر بچوں کو دانت نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اس وقت بچوں کو قے اور دست کی بیماریاں عام طور پر ہوتی ہیں۔ بچوں کو ڈائریا سے اور دست کی بیماری سے محفوظ رکھنا ضروری ہے اس کے لئے دانت نکلنے کے دوران ڈاکٹر کے مشورے سے دواؤں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔بچہ جب چلنے کے لائق ہو جائے تو اس کے آس پاس کسی ایسی چیز کو نہ رہنے دیں جس سے بچے کو نقصان ہو ۔مثلاً جلتا ہوا لیمپ،گرم پانی کی بوتل قینچی،چھری،چاقو یا پتھر اور اینٹ کے ٹکڑے۔اس عمر میں بچے ہر چیز کو منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ اس لئے اس بات کا خیال رکھیں کہ بچہ منہ میں کوئی ایسی چیز نہ رکھے جو اس کے لئے نقصان دہ ہو۔ جسم میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے بچے مٹی کھانے لگتے ہیں یا دیگر عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت میں بچے کو دودھ کی مناسب مقدارکا خیال رکھیں۔چھوٹے بچوں کو پرام پر اگر باہر لے جائیں تو دونوں بازوؤں میں تکیہ لگا دیں تاکہ وہ جھٹکے سے دائیں،بائیں جھولے نہ کھائے ایسے میں گردن میں موچ آسکتی ہے۔پرام کوفٹ پاتھ پر یالان میں تنہا مت چھوڑیں۔بچے کو باتھنگ ٹب اور کچن میں یا چولہے کے پاس اکیلا چھوڑنا خطرنا ک ہو سکتا ہے ۔بچہ جب اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگے تو چیزوں کو اس کے ہاتھ کی پہنچ سے دور رکھیں۔

تازہ ترین خبریں