11:16 am
ماں اور صحت مند بچے کے لئے غذائیت کی بے حد اہمیت - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

ماں اور صحت مند بچے کے لئے غذائیت کی بے حد اہمیت - بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

11:16 am

ماں بننا یقینا ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے ۔یہ ذمہ داری اسی دن سے شروع ہو جاتی ہے جس دن عورت میں تخلیقی عمل کا آغاز ہوتاہے ۔ماں بننے کے عمل میں عورت کو کئی چیزوں کا خیال رکھنا ہوتاہے ان میں سے ایک خوراک بھی ہے ۔حمل کے دوران محض زیادہ کھانا ہی ضروری اور کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جو بھی کھایا جائے وہ حاملہ عورت کی تمام غذائی ضروریات پوری کرے۔حاملہ عورت جو بھی کھاتی ہے اس کا براہ راست اثر اس کے جسم میں نمو پاتے ہوئے بچے پر پڑتا ہے ۔تمام ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ متوازن خوراک کھائی جائے ۔اگر خاتون کھانے کے معاملے میں لا پرواہ ہوتو حمل ٹھہرنے کے بعد اسے یہ لاپرواہی ہر صورت ختم کر دینا چاہیے۔
 
ماں کے اندر نشوونما پانے والے بچے کو پروٹین کی مناسب مقدار کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ خلیوں کی تشکیل ،خون کا بننا ،ہڈیوں کی نشوونما، جسمانی مائعات کی فراہمی اور ہارمونز کی مکمل تشکیل میں غذائیت بنیادی ضرورت ہے ۔معدنی اجزاء یعنی منرلز بھی بچے کی جسمانی تعمیر اور اس کے لئے مطلوبہ معائعات بننے اور خلیاتی سر گرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔مادر رحم کے اندر اہم اعضا ء کی نشوونما کے لئے وٹامنز بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔جئین (Fetus) کے جسمانی اعضاء کی نشوونما کے لئے وٹامنز بھی بہت اہم غذائی ضرورت میں شامل ہیں ۔وٹامن B12,B6,Aاور فولک ایسڈز ۔حاملہ خاتون کے جسم میں بچے کو غذائیت پہنچانے کی خاطر وہ سر گرمیاں تیز ہو جاتی ہیں جو غذا کو جزد جسم بنا دیتیں ہیں ۔یہ بات بھی اہم ہے کہ حاملہ عورت کے جسم میں خون کی مقدار نارمل عورت کے خون کی تعداد کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ دوران حمل ایمنیوٹک فلوئڈ (Amniotic Fluid)، انٹراسیلولر (Intra Cellular) اور ایکسٹرا سیلولر (Extra Cellular) مائعات کی تشکیل بھی بڑھ جاتی ہے اور اس سے بچے کو بہت فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ وہ سب اس تک پہنچتا ہے ۔اس دوران اینزائمز (Enzymes) میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں اور بالخصوص ایسڈ اور پیپین کی پیدا وار میں کمی ،حاملہ عورت کے نظام ہضم کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے حاملہ عورت کو سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے اور آنتوں کی نالی میں سست روی پیدا ہونے کی بدولت قبض کی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔حاملہ عورت کے لئے بہت ضروری ہے کہ اسے ذہنی سکون اور جسمانی آرام مہیا کیا جائے کیونکہ حمل کے دوران عورت کے اندرونی اعضاء جیسے دل اور گردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے ۔دل کی دھڑکنوں کی رفتار تیز تر ہو جاتی ہے ۔رحم ،گردے اور دل خون زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں ۔اس کا وزن چند کلو بڑھ جاتاہے جو صحت مندی کی نشانی ہے ۔ایک تندرست شیر خوار بچے کے جسم میں تقریباً 300ملی لیٹر خون ہو تا ہے جبکہ پروٹین 500گرام ،کیلشیم تیس گرام ،فاسفورس پندرہ اور فولاد (آئرن) 300سے 400گرام ہوتا ہے ۔خون کے حجم میں 3.1گرام اور معائعات کے حجم میں 1.5کو اضافہ ہو جاتا ہے ۔اس سب کو نشوونما پانے والے بچے پر بے حد مثبت اثر ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبریں