داڑھی والی سکھنی نے ایسی شرمناک تصویر شیئر کر دی کہ دیکھ کر پوری دنیا کے سکھوں کے ”12“ بج گئے،
  11  اکتوبر‬‮  2017     |     دنیا

لندن (ویب ڈیسک) ناک میں سونے کی نتھ ،بھنویں ترشی ہوئیں،آنکھوں میں کجرا،لبوں پر سرخی ،سر پر کڑھائی دارسرخ دوپٹہ اور گلے میں سولہ سنگھار۔۔۔ مگر چہرے پر مردوں جیسی داڑھی دیکھ کر پہلے تو لوگ اسکو کوئی ڈرامہ ایکٹر ہی سمجھتے ہیں لیکن یہ کوئی نقلی کردار نہیں بلکہ برطانیہ کی ایک سکھنی ہرنام کور ہے جسے عورتوں کے ایک مخصوص مرض پی او ایس کی وجہ سے چہرے اور پورے بدن پر بالوں کے ساتھ زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔ برطانیہ میں جنم لینے والی ہرنام پہلے ایک سکول میں

اسسٹنٹ پروفیسر تھی اور شروع میں شیو بھی کرتی تھی لیکن روز روز کی اس تکلیف دہ مشقت سے تنگ آکر اس نے مرد سکھوں کی طرح روپ دھار لیا تو اس کی توقع کے برعکس اسکی زندگی ہی بدل گئی۔وہ سکول ٹیچر کی بجائے ماڈل اور فوڈ سپیشلسٹ بن گئی۔ اب تک اس نے ”صاف ستھری“ ماڈلنگ ہی کی تھی جسے بھارت سمیت پوری دنیا میں سراہا جا رہا تھا مگر اب اس نے اپنے شرمناک فوٹو شوٹ کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی ہے جسے دیکھ کر یقینا پوری دنیا میں مقیم سکھوں کے ”12“ بج گئے ہوں گے۔ ہرنام کور نے تصویر فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ” جو آپ بولتے ہیں، جو آپ سوچتے ہیں، جن چیزوں کو آپ چھوتے ہیں، آپ کا جسم انہیں سنتا، محسوس کرتا ہے اور اسے گلے لگاتا ہے۔۔۔ اس لئے برائے مہربانی رحم کریں۔یہ تصویر لوگوں کو دکھانے کی سوچ کیساتھ پرسکون ہونے میں مجھے 2 ہفتے لگے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ میری ایک فیملی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ لوگ میرا یہ روپ دیکھنے کو تیار بھی ہیں یانہیں ! میرا مطلب میں اپنے بیڈ روم میں اپنے ساتھ اپنے لئے ’سیکسی‘ ہوتی ہوں اور مجھے نہیں پتہ کہ کھلے عام کیسے ’سیکسی‘ ہونا ہے، کیا ’سیکسی‘ ہونے کا کوئی طریقہ ہے؟ اس فوٹوشوٹ نے مجھ سے میرا سکون چھین لیا تھا، اپنا جسم دکھانا اور پھر کھلے عام جسم دکھانا ! میری تشویش بے سکونی کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی، مجھے بہت زیادہ تشویش تھی۔ لیکن تصاویر دیکھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میں کتنی شاہانہ ہوں۔ میں بہت زبردست لگ رہی ہوں۔“ ہرنام کور کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ تصویر شیئر ہونے کے بعد لوگوں کی جانب سے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جہاں لوگ اس تصویر کو پسند کر رہے ہیں تو دوسری جانب بہت سے لوگ اسے تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
18%
ٹھیک ہے
9%
کوئی رائے نہیں
18%
پسند ںہیں آئی
55%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved