مخالفین نے علی عبداللہ صالح کو کتنی گولیاں ماریں ؟ تفصیلات سامنے آگئیں
  5  دسمبر‬‮  2017     |     دنیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہاکہ یمن کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، مسئلے کے پر امن حل کے لیے مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔ یمن کی صورتحال کے پیش نظر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔علاوہ ازیں عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ عبداللہ صالح کی ہلاکت کے بعد جنگجو بڑی تعداد میں صدر ہادی کی فورسز میں شامل ہو گئے ۔غیرملکی خبرر

ساں ادارے کے مطابق عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ عبداللہ صالح کی ہلاکت کے بعد جنگجو بڑی تعداد میں صدر ہادی کی فورسز میں شامل ہو گئے ہیں اوریہ تعدادپانچ سو سے چھ سو کے درمیان بتائی جارہی ہے ۔بتایاگیا ہے کہ جنگجوئوں میں کئی اہم کمانڈربھی شامل ہیں اورانہوں نےحکومت کو اپنے بھرپورتعاو کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم ابھی اس کی سرکاری سطح پرتصدیق ہونا باقی ہے،یمن کے صدر منصور ہادی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ صدرہادی نے عوام سے حوثی باغیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صدر کے ترجمان کا کہناتھا کہ ہادی حکومت کی بحالی کے علاوہ یمن مسئلے کا کوئی حل نہیں۔دریں اثنا یمن میں سرکاری فوج کی قیادت نے سات بریگیڈز کو مارب صوبے سے صنعاء کیجانب مارچ کے احکامات جاری کردیئے ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری فوج کی قیادت نے نہم کے محاذ پر موجود فورسز کو فوری احکامات دیے ہیں کہ وہ اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافہ کر دیں اور ساتھ ہی درالحکومت صنعاء کی جانب موو شروع کر دیں ۔ان ہدایات کے ساتھ نہم کے محاذ پر عسکری کمک بھی بھیجی جا رہی ہے تا کہ صنعاء کی سمت خولان کا محاذ کھولا جا سکے۔اس سے قبل اتوار کے روز یمنی فوج کےایک بڑے عسکری کمانڈر نے صنعاء کے مشرق میں نہم کے محاذ پر جاری عسکری کارروائیوں کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔اس حوالے سے سیونتھ ملٹری زون کے کمانڈر ناصر الذیبانی کا کہنا تھا کہ سرکاری فوج نے گزشتہ دو روز کے دوران نہم کے محاذ پر بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ یمنی فوج بلند حوصلے کے ساتھ لڑ رہی ہے جب کہ حوثی ملیشیا اجتماعی صورت میں اپنے ٹھکانوں سے فرار ہو رہی ہے۔دریں اثناالعربیہ کے مطابق یمن کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ بدعہدی کی اور انہیں غداری کےذریعے موت کے گھاٹ اتارا دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علی صالح کی گاڑی کا چاروں اطراف سے محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس لیے ان کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ گاڑی سے اتارے جانے کے بعد باغیوں کوٹیلیفون پر ان کےقتل کا حکم ہوا جس کےبعد وہاں پر موجود باغیوں نے سابقصدر کے سر اور جسم میں 35 گولیاں ماریں اور وہ موقع پردم توڑ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعاء میں قبائلی ثالثوں نے علی صالح کو اپنے رہائش گاہ سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا اور انہیں تجویز دی تھی کہ وہ جنوبی صنعاء میں سنحان کے مقام پر اپنے گھر میں ٹھہرے رہیں۔ تاہم حوثیوں کی طرف سے انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی اور کہا گیا تھا کہ سابق صدر اپنی رہائش گاہ سے باہر کسی دوسری جگہ جا سکتےہیںجنرل پیپلز کانگریس کے ایک رہ نما علی البخیتی نے کہاہے کہ حوثیوں کے ایک ماہر نشانہ باز نے علی عبداللہ صالح کے سر میں گولی ماری ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق علی البخیتی نے کہاکہ اس جھڑپ میں جنرل پیپلز کانگریس کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل یاسر العودی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ علی صالح کے بیٹے خالد زخمی ہیں اور انھیں حوثیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔ طارق صالح اورپیپلز کانگریس کے سیکریٹری جنرل عارف ذکا کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ وہ بھی سابق صدرکے ساتھ مارے گئے ہیں یا انھیں حوثیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔علاوہ ازیں یمن کی صورتحال کے پیش نظر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا،یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح کے قتل کے بعد ملک کی صورتحال مزید بگڑ گئی، اقوام متحدہ نے یمن کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے یمن میں جاری جھڑپوں کو انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے،


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved