یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح حوثیوں کے حملے میں کیسے مارے گئے ؟
  6  دسمبر‬‮  2017     |     دنیا

یمن (ویب ڈیسک) دارالحکومت صنعاء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے علی صالح اور ان کے قریبی ساتھیوں کو پہلے گرفتار کیا اور پھر نزدیک سے سر میں گولیاں مار کر انھیں ہلاک کیا۔حوثیوں نے صنعاء میں ہفتے کی شب سے علی صالح ، ان کی وفادار فورسز اور ان کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے سرکردہ لیڈروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔اسی روز سابق صدر نے حوثیوں کے ساتھ تین سال سے جاری اتحاد باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔اس کے بعد حوثی تحریک کے مسلح جنگجو شہر بھر میں پھیل گئے تھے۔ انھوں نے خفیہ کمین گاہوں میں چھپائے گئے ہلکے اور بھاری ہتھیار اٹھا لیے تھے اور علی صالح کے مکان ، ان کی جماعت کے ہیڈ کوارٹرز اور دوسرے لیڈروں کے مکانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا ۔ وہ گذشتہ دو روز سے مسلسل چھاپا مار کارروائیاں کررہے تھے اور انھوں نے ان کے مکانوں پر راکٹ گرینیڈوں سے حملے شروع کردیے تھے۔علی صالح نے سوموار کو علی الصباح صنعاء کی شاہراہ ستین کے نزدیک ایک جگہ پر اپنے بااعتماد ساتھیوں اور پارٹی کے ارکان سے ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ صنعاء سے چالیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع اپنے آبائی قصبے سنحان کی جانب جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حوثی جنگجوؤں نے ان کی گاڑیوں کا پیچھا کیا اور شہر سے باہر ایک ویران جگہ پر ان کے قافلے کا گھیراؤ کر لیا ۔انھوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جس میں ری پبلکن گارڈز کے متعدد محافظ اور جنرل پیپلز کانگریس کے کئی سرکردہ ارکان مارے گئے۔اس کے بعد حوثی جنگجوؤں نے علی صالح ، ان کے قریبی معاونین اور ان کے بھتیجے طارق صالح کی گاڑیوں کا تعاقب جاری رکھا ۔

ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو کم سے کم بیس فوجی گاڑیوں پر سوار تھے۔جنرل پیپلز کانگریس کے ایک رہ نما علی البخیتی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے ایک ماہر نشانہ باز نے علی عبداللہ صالح کے سر میں گولی ماری تھی جبکہ بعض دوسری رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سابق صدر اور ان کے متعدد قریبی ساتھیوں کو پکڑ لیا تھا اور پھر انھیں وہیں نزدیک سے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔تاہم حوثی ملیشیا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے علی صالح کے موٹر کیڈ پر حملہ کرکے انھیں گولیوں اور راکٹ گرینیڈوں سے ہلاک کیا ہے۔حوثیوں نے انٹر نیٹ پر موبائل فون سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے ۔اس میں مسلح حوثیوں نے علی صالح کی لاش ایک کمبل میں لپیٹ رکھی ہے اور ان کے سر کے بائیں جانب گولی کا نشان نظر آرہا ہے۔اس جھڑپ میں جنرل پیپلز کانگریس کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل یاسر العودی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ علی صالح کے بیٹے خالد مبینہ طور پر زخمی ہوگئے ہیں اور انھیں حوثیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔ طارق صالح اور پیپلز کانگریس کے سیکریٹری جنرل عارف ذکا کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ وہ بھی سابق صدر کے ساتھ مارے گئے ہیں یا انھیں حوثیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
33%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved