‘‘تو بہ استغفار‘‘ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو کس طرح دھوکے سے بلایا گیا ، انکے جسم میں کتنی گولیاں ماری گئیں اور پھر ان کی لاش کے ساتھ
  7  دسمبر‬‮  2017     |     دنیا

صنعاء (ویب ڈیسک) یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح گزشتہ روز حوثی باغیوں کیساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوئے تو یمن کے ذمہ دار ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہیں بدعہدی کرتے ہوئے دھوکے سے قتل کیا گیا اور گاڑی سے اتار کر ان کے سر اور جسم میں 35 گولیاں ماری گئیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ”العربیہ“ صنعاءمیں قبائلی ثالثوں نے علی صالح کو اپنے رہائش گاہ سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا اور انہیں تجویز دی تھی کہ وہ جنوبی صنعاءمیں سنحان کے مقام پر اپنے گھر میں ہی رہیں تاہم حوثیوں کی طرف سے انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی اور کہا گیا تھا کہ سابق صدر اپنی رہائش گاہ سے باہر کسی دوسری جگہ جا سکتے ہیں۔

بدعہد غدار حوثیوں کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد علی صالح اپنے بیٹے اور دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک کار پر بیت الاحمر کے مقام کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کی گاڑی جب سیان کے مقام پر پہنچی تو سامنے سے آنے والی حوثی باغیوں کی کئی گاڑیوں نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا۔ مسلح دہشت گردوں نے انہیں گاڑی سے نیچے اتارا۔ ابھی وہ ان سے بات چیت ہی کر رہے تھے کہ باغیوں کو اعلیٰ کمان سے علی صالح کو قتل کرنے کے احکامات موصول ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی صالح کی گاڑی کا چاروں اطراف سے محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس لئے ان کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ گاڑی سے اتارے جانے کے بعد باغیوں کوٹیلیفون پر ان کے قتل کا حکم ہوا جس کے بعد وہاں پر موجود باغیوں نے سابق صدر کے سر اور جسم میں 35 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved