امریکی سینیٹ میں کون سے پاکستان مخالف منصوبے پر صلاح مشورہ شروع ہو گیا؟؟؟خوفناک خبر
  8  فروری‬‮  2018     |     دنیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے خلاف قومی دفاعی بل پاس ہونے کے بعد اب سینیٹ میں زیر بحث ہے۔ امریکی پارلیمنٹ نے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی عسکری امداد معطل کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ چند ماہ قبل امریکی پارلیمنٹ میں قومی دفاعی پالیسی بل 2018 منظور ہوا جس میں امریکی اسٹیٹ ڈپارنمنٹ اور یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈولپمنٹ (یو ایس ایڈ) کی جانب سے پاکستان کی امداد پر پابندی کا تقاضہ کیا گیا۔ بل کے حق میں 344 اور مخالفت میں 81 ووٹ ڈالے گئے۔ایوان زریں میں پیش کیے جانے والے بل میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی غیر عسکری امداد بھی بند کی جائے اور وہ تمام رقم امریکا کے ترقیاتی شبعوں میں لگائی جائے۔

بل پیش کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ‘وہ پاکستان کی عسکری امداد پر پابندی کا تقاضہ اس لیے کررہے ہیں کیوں کہ پاکستان دہشت گردوں کو ‘ملڑی امداد اور انٹیلی جنس’ فراہم کرتا ہے مذکورہ الزام کو پاکستان نے قطعی رد کیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق امریکا افغانستان میں بڑھتی ہوئی شرپسندی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور اسی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔بل کانگریسی رہنما مارک سین فورڈ اور تھامس ماسی نے پیش کیا۔ مارک سین فورد نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے دہشت گردوں کو نوازا جانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور مذکورہ امدادی رقم کو ہائی وے ٹرسٹ فنڈ میں شامل ہوناچاہیے جس سے ترقیاتی کام ہوسکیں’۔تھامس ماسی نے کہاکہ قومی دفاعی پالیسی بل 2018 کا مطلب سب سے پہلے امریکا ہے اس کے ذریعے روڑزاور پلوں کی تعمیر ہو گی ناکہ دوسری ریاستوں پر خرچ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ‘جو ممالک امریکیوں کی موت پر خوش ہوتے اور جھنڈے جلاتے ہیں، ان کی مدد کرنے سے ہمارے ملک کا داخلی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہورہا ہے جس کے تحفظ کے لیے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے’۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved