نعمانپورہ،محکمہ تعلیم کی پھرتیاں ، این ٹی ایس کو کاور بار بنا لیا
  14  مارچ‬‮  2018     |      کشمیر

نعمانپورہ (نمائندہ اوصاف )محکمہ تعلیم کی پھرتیاں ، این ٹی ایس کو کاور بار بنا لیا ، گزشتہ چار ماہ قبل این ٹی ایس کے امتحانات ہوئے لاکھوں روپے فیسیں وصول کی گئیں ، این ٹی ایس کے تحت بننے والی میرٹ لسٹ کی معیاد چھ ماہ تھی مگر محکمہ تعلیم نے چھ ماہ سے قبل ہی دو بارہ ٹیسٹ انٹر ویو کال کیے اور این ٹی ایس ٹیسٹ میں گزشتہ انٹر ویوز میں شامل امید واروں نے عدالت العالیہ میں غیر قانونی انٹر ویوز کو چیلنج کیا اور حکم امتناعی حاصل کر لیا ، این ٹی ایس کے تحت میرٹ لسٹ پر آنے والے امید واروں کا میرٹ چھ ماہ تک قابل عمل تھا جس کے مطابق تقرری انہی امید واران کی ہونی تھی جو این ٹی ایس پاس کر کے میرٹ لسٹ میں شامل ہوئے تھے مگر محکمہ تعلیم نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے ان امید واروں کی اہڈہاک تقرریاں کیں اور چھ ماہ کے اندر ہی معیاد ختم ہونے سے قبل دو بارہ ٹیسٹ انٹر ویو کال کر دیئے گئے ، ایک مرتبہ پھر پاس شدہ امید واران کو ٹیسٹ سے گزارنے کا عمل کروانے کی ٹھانی گئی جس سے نا صرف پاس شدہ امید واران کی حق تلفی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا بلکہ مالی طور پر مزید اخراجات بھی برداشت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ،

قانونی طور پر محکمہ تعلیم اس بات کا پابند تھا کہ وہ امید وار جنہوں نے این ٹی ایس پاس کیا مزید آسامیاں آنے پر انہی امید واران کو چھ ماہ کے اندر تعینات کیا جاتا مگر کارو بار کے بڑھاوے کے لیے حکومت نے ایک دفعہ پھر این ٹی ایس کروانے کا حکم دے کر محکمہ تعلیم سے اشتہار جاری کروا دیا ، عوامی حلقوں نے محکمہ تعلیم کی تعلیم کش پالیسیوں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کو کاروبار کا ذریعہ نہ بنایا جائے جن امید واران نے این ٹی ایس پاس کیا ہے ان کی تقرریاں میرٹ لسٹ کے مطابق کی جائیں ، اس موقع پر عوامی حلقوں نے عدالت العالیہ کے حکم امتناعی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے عدالت العالیہ قانون کے مطابق این ٹی ایس پاس امید واران کو انکا حق دلوائے گی ، حکم امتناعی کا فیصلہ حق و سچ کی جیت ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved