یہ طالبعلم کس معروف ترین شخصیت کابیٹاہے ؟جان کردنگ رہ جائیں گے
  11  جولائی  2018     |     دنیا

دمشق (ویب ڈیسک )شام میں اقتدار سے چمٹے صدر بشار الاسد کا بڑا بیٹا حافظ الاسد طلبہ کے لیے ریاضی کے ایک بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے سلسلے میں رومانیہ پہنچا ہوا ہے۔ یہ مقابلہ 3 جولائی سے شروع ہوا تھا اور آئندہ ہفتے کے روز تک جاری رہے گا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حافظ الاسد کی پوری کوشش ہے کہ وہ رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ سے 325 کلو میٹر دور واقع شہر Clu-Napoca میں عام فرد کی طرح نظر آئے۔ حافظ ایک 3 اسٹار ہوٹل "وکٹوریا" میں 10 دیگر شامیوں کے ساتھ قیام پذیر ہے۔حافظ الاسد کے علاوہ 110 ممالک کے 615 دیگر طلبہ بھی مقابلے میں شرکت کے واسطے "کلو ناپوکا" شہر میں موجود ہیں۔ مقابلے میں ہر ٹیم زیادہ سے زیادہ 6 طلبہ پر مشتمل ہے جب کہ شام کی ٹیم میں 5 اضافی ارکان ہیں جو کہ طلبہ نہیں بلکہ وہ حافظ الاسد کے ذاتی محافظین ہیں۔ حافظ نے گزشتہ برس برازیل میں ریو ڈیجنیرو میں ہونے والے اسی مقابلے میں شرکت کی تھی۔ تاہم رومانیہ کے اخبارAdeverul سے گفتگو میں خود کو کم عمری سے ریاضی کا خُوگر قرار دینے والا حافظ الاسد گزشتہ مقابلے کے 615 شرکاء میں 528 ویں پوزیشن حاصل کر سکا تھا۔ مذکورہ اخبار کے مطابق ریاضی کے اولمپک میں شریک کسی بھی عام طالب علم کی طرح پیش آنے والا حافظ دیگر طلبہ کے ساتھ سیلفی بنانے کا نشے کی حد تک شوقین ہے۔ حافظ کے ہاتھ میں موبائل اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ہر دم موجود رہتی ہے۔دوسری جانب رومانیہ کی نیوز ویب سائٹClick کے مطابق "حافظ الاسد خفیہ طور پر رومانیہ پہنچا۔ اس کے ہمراہ مقابلے میں شریک 5 دیگر طلبہ ، انتظامی امور دیکھنے والے 5 افراد اور بشار الاسد کے زیر انتظام ریپبلکن گارڈز سے تعلق رکھنے والے کئی اہل کار تھے"۔ رومانیہ کے ذرائع ابلاغ کے ایک ادارےMediafax کے مطابق شام کی ٹیم نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تین مرتبہ اپنی آمد کا شیڈول تبدیل کیا۔ کلو ناپوکا شہر کے حکام نے اس موقع پر سکیورٹی کے انتظامات کو سخت کرتے ہوئے 140 سکیورٹی اہل کاروں کو مختص کیا اور دارالحکومت بخارسٹ سے ریپڈ ایکشن فورس کا ایک یونٹ بھی بُلوا لیا گیا۔ذرائع کے مطابق ہوٹل میں حافظ الاسد کے ساتھ مقابلے میں شریک

کسی بھی دوسرے طالب علم کی طرح برتاؤ کیا جا رہا ہے اور وہ عام اور روایتی ذرائع میں سفر کر رہا ہے۔حافظ کا کہنا ہے کہ 7 برس قبل شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد وہ اپنے خاندان کا پہلا فرد ہے جو کسی یورپی ملک کا دورہ کر رہا ہے۔آنکھوں کے ڈاکٹر (بشار الاسد) کا بیٹا حافظ نظر کی کمزوری کے سبب ہر وقت چشمہ لگا کر رکھتا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران وہ رومانیہ میں کئی ٹی وی انٹرویوز میں نمودار ہو چکا ہے۔ اس دوران وہ بار بار اس امر پر زور دیتا رہا کہ "میں ایک عام انسان ہوں"۔ ایک مقامی ٹیلی وژن Tv Happy کو دیے گئے انٹرویو میں حافظ کا کہنا تھا کہ "میں نہیں جانتا کہ خود کو عام انسانی ثابت کرنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے۔ آخر کار میں محض ایک طالب علم ہوں اور میری عمر 16 برس ہے"۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved