امریکی فوج کے سربراہ نے انتہائی خوفناک بیان دے ڈالا،تشویشناک صورتحال
  10  اگست‬‮  2018     |     دنیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹرل کمانڈ امریکا کے سربراہ جنرل جوزف فوٹیل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی بڑی بحری مشقیں دراصل امریکا کے لئے دھمکی بھرا پیغام ہیں،ایران آبنائے ہرمزمیں سمندری بارودی سرنگیں نصب کر سکتا ہے۔امریکا ایسی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابقسینٹرل کمانڈ امریکا کے سربراہ جنرل جوزف فوٹیل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی بڑی بحری مشقیں دراصل امریکا کے لئے ایک پیغام تھیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل فوٹیل نے واضح کیا کہ یہ مشقیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کا ردعمل تھیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی صلاحیت کا اظہار تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ(ایران) ان مشقوں کے ذریعے ہمیں(امریکا)کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ اگر واشنگٹن نے تہران پر پابندیاں عاید کیں تو اس کے جواب میں ایران اپنی کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔جنرل فوٹیل، جو مشرق وسطی اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکی فوجی کارروائیوں نے نگران ہیں، نے مزید کہا کہ ان مشقوں میں سپاہ پاسداران انقلاب کے زیر کنڑول ایک سو ایرانی بحری جہازوں نے شرکت کی۔ فوٹیل کے بقول یہ مشقیں غیر

معمولی نہیں تھیں۔امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ایران انتہائی مصروف سمندری گذرگاہ(آبنائے ہرمز)میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کر سکتا ہے۔ نیز یہاں دھماکا خیز مواد سے لدی چھوٹی کشتیاں چھوڑ سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ان امکانات کے حوالے سے پہلے ہی پیش بندی کر رکھی ہے۔ ہمارے پاس اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت ہے۔امریکی جنرل نے بتایا کہ مشقوں کے درمیان ایرانی اور امریکی لڑاکا بحری بیڑوں کے درمیان کسی قسم کی غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دونوں فریق پیشہ وارانہ انداز میں ایک دوسرے کے قریب ہی اپنی اپنی مشقوں میں مصروف رہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
88%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
13%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

دنیا

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved