تازہ ترین  
اتوار‬‮   20   جنوری‬‮   2019

سعودی عرب سے بڑی بریکنگ نیوز : شاہی محل پر فائرنگ سے محمد بن سلمان ۔۔۔۔۔۔ یہ حملہ کب کیا گیاتھا؟ تصدیق کر دی گئی


ریاض (نیوز ڈیسک ) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کی وجہ سے منظر عام سے غائب ہیں۔ وہ چند ہفتوں سے نظر عام پر نہیں تھے جس کی وجہ سے عوام میں ان کے حوالے سے چہ مگوئیوں کا سلسلہ جاری تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامک ریوائیول پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد الماساری نے کہاکہ محمد بن سلمان پر حملہ اپریل کے مہینے میں کیا گیا تھا۔ایک سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ 21 اپریل کو شاہی محل کے باہر گولہ باری کی گئی تھی جس کے بعد سعودی عرب کیسرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے بیان

جاری کیا گیا کہ یہ فائرنگ ایک کھلونا ڈروں ن کو تباہ کرنے کیلئے کی گئی تھی جو شاہی محل کی حدود میں گھس آیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون کے ذریعے حملہ نہیں کیا گیا تاہم چند ایسی گاڑیوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں جن سے شاہی محل پر فائرنگ کی گئی تھی۔ واضح رہے اس سے قبل ایک ناراض سعودی شہزادے نے شاہی خاندان کی اہم ترین شخصیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شاہ سلمان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیں، سعودی شہزادے نے بغاوت کا اعلان کر دیا ہے ۔ مڈل ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق پرنس خالد بن فرحان جو کہ جرمنی میں پناہ گزیں ہیں نے یہ اپیل پرنس احمد بن عبدالعزیز اور پرنس مقرن بن عبدالعزیز سے کی ہے،اس اپیل میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’شاہ سلمان و شاہی خاندان کے غیر منطقی و غیر دانشمندانہ اقتدار کے باعث مملکت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ واضح رہے کہ 2013ء میں پرنس خالد کو جرمنی نے سیاسی پناہ دی تھی اور وہ تاحال جرمنی میں ہی قیام پذیر ہیں۔ پرنس خالد نے مڈل ایسٹ آئی کو انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا کہ اگر احمد اور مقرن اکٹھے ہوجائیں تو شاہی خاندان کے 99 فیصد افراد ، سکیورٹی سروسز اور فوج ان کے پیچھے کھڑے ہوں گے ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ کنگ سلمان کے حیات برادران میں سے سب سے بڑے ممدوح بن عبدالعزیز کے حالیہ بیانات سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاہی خاندان میں مجموعی طور پر بہت عدم اطمینان پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شاہی خاندان میں بہت غصہ پایا جاتاہے، اسی معلومات کی بناء پر میں نے پرنس احمد اور پرنس مقرن جو کہ عبدالعزیز کے بیٹے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں سے یہ اپیل کی ہے۔ وہ اہل ہیں اور صورتحال کو بھی بہتر کر سکتے ہیں۔ پرنس خالد بن فرحان نے کہا کہ احمد بن عبدالعزیز جو ک سابق وزیر داخلہ اورنائب وزیر داخلہ رہے ہیں کو سکیورٹی فورسز اور قبائل کے اہم حصوں کی حمایت حاصل ہے۔ شاہ سلمان نے مقرن بن عبدالعزیز کو ابتدائی طور پر ولی عہد مقرر کیا تھا لیکن بعد میں ان کی جگہ 2015ء میں محمد بن نائف کی تقرری کر دی گئی۔ بعد ازاں ان کی جگہ محمد بن سلمان کو ولی عہد بنا دیا گیا۔ ناراض شہزادے خالد بن فرحان نے بتایا کہ ان کو پولیس اور فوج میں موجود افراد کی بڑی تعداد کی طرف سے ای میلز موصول ہو رہی ہیں جن میں ان کے لیے حمایت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ کہ اسی بناء پر وہ پرنس احمد بن عبدالعزیز اور مقرن بن عبدالعزیز سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور صورتحال کو تبدیل کر دیں۔




 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

تازہ ترین خبریں




     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved