07:57 am
سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید 50 میں سے 4 افراد کی تدفین کر دی گئی

سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید 50 میں سے 4 افراد کی تدفین کر دی گئی

07:57 am

کرائسٹ چرچ (نیو زڈیسک) سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید 50 میں سے 4 افراد کی تدفین کر دی گئی، خالد مصطفی بیٹے حمزہ سمیت مسجد النور میں شہید ہوئے تھے۔خالد مصطفی اور ان کے 16 سالہ بیٹے کی نماز جنازہ لِنووڈ میموریل پارک میں ادا کی گئی، خالد کے دوسرے زخمی
بیٹے نے وہیل چئیر پر شرکت کی۔ 36 سالہ جنید اسماعیل سمیت 2 مزید افراد کی نمازجنازہ کرائسٹ چرچ میں ادا کی گئی۔ شہداکی نماز جنازہ میں مختلف کمیونٹیز سے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔وزیراعظم جیسنڈا آرڈن کا کہنا تھا کہ میتوں کی 24 گھنٹے میں تدفین نہ ہونے پر لواحقین کے دکھ کا احساس ہے۔ انہوں نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا جمعہ کو ملک بھر میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا نسل پرستی سے انتہا پسندی پھیلتی ہے، سوشل میڈیا کے معاملے پر متحدہ محاذ بنانا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ اس وقت صرف اپنے ملک پر ہے۔ جیسنڈا آرڈرن کرائسٹ چرچ میں کشمیری ہائی سکول بھی گئیں، شہداء میں سے کئی افراد کا تعلق اس سکول سے تھا۔ اس موقع پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے طلبہ و طالبات نے قبائلی انداز میں ہاکا پیش کیا۔