01:18 pm
امریکہ نے ظلم کی انتہا کردی ،اسلامی ملک پر بمباری

امریکہ نے ظلم کی انتہا کردی ،اسلامی ملک پر بمباری

01:18 pm

اسلام آباد(نیو زڈیسک) پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق افغانستان، شام، عراق اور صومالیہ میں گزشتہ برس امریکی افواج کی کارروائیوں میں 120 شہری ہلاک جبکہ 65 افراد زخمی ہوئے۔قومی اخبارکی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کی تنظیموں کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں کم ہیں۔کانگریس کی جانب سے مرتب کردہ سالانہ رپورٹ 2017 میں 800 شہریوں کی ہلاکتوں کے مقابلے میں واضح کمی کی نشاندہی کرتی ہے کیوں کہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف آپریشن میں خاصی کمی آچکی ہے۔20 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں فضائی اور زمینی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا جن کے مطابق افغانستان میں 76شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں
جبکہ عراق اور شام میں 42 شہری ہلاک ہوئے اس کے علاوہ 2 شہری صومالیہ میں ایک حملے کے دوران مارے گئے، پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق لیبیا اور یمن میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی امریکی شاخ نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس قسم کے مزید اقدامات پر زور دیا۔ایمنسٹی کی ڈائریکٹر آف سیکیورٹی کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے محمکہ دفاع اب بھی امریکی سربراہی میں ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کو واضح طور پر کم ظاہر کررہا ہے جیسا کہ حال ہی میں صومالیہ اور شام کے حوالے سے ہماری تفصیلی رپورٹ میں ظاہر ہے۔خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور نگرانی کرنے والی تنظیم ایئرویز کی اپریل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں صرف شام کے دارالحکومت رقہ میں 16 سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔اس سے قبل فروری میں افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2018 میں حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کے آپریشنز سے ایک ہزار 185 شہری ہلاک ہوئے۔پینٹاگون کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ امریکی فوج اور ’یو این اے ایم اے‘ کے اعداد و شمار میں اسلیے فرق ہے کہ دونوں مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔اس ضمن میں پنٹاگون کے ترجمان کمانڈر کینڈیس کا کہنا تھا کہ یہ پہلا سال ہے کہ جب مکمل رپورٹ منظر عام پر لائی گئی، حالانکہ شہریوں کی ہلاکتیں افسوسناک ہیں لیکن یہ جنگ کا وہ حصہ ہیں جنہیں الگ کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاریخ میں کسی فوج نے شہریوں کو نقصانات سے بچانے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی امریکی فوج نے کی ہے اور امریکی فوج باقاعدگی سے شہریوں کی حفاظت کے میعارات پر عمل کری رہتی ہے جو مسلح تنازعات کے قوانین کے لیے ضروری ہیں۔

تازہ ترین خبریں