02:56 pm
سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے

سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے

02:56 pm

خرطوم(آن لائن)سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ 15افراد کے ہلاک اور200سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں. مخالفت کی حامی سوڈان کے ڈاکٹروں کی سینٹرل کمیٹی نے 10 مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے‘خیال رہے کہ سوڈان اپریل میں فوج کے ہاتھوں صدر عمر البشیر کے ہٹائے جانے کے بعد سے شورش کا شکار ہے
.یہ اقدام ان کے خلاف عام بغاوت کا نتیجہ تھے عمر البشیر 30 جون کو تختہ الٹنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے‘تین جون کو آزادی کی حمایت والے مظاہرے کے خلاف کریک ڈائون کے بعد سے اتوار کو ہونے والا مظاہرہ سب سے بڑا تھا تین جون کے کریک ڈائون میں کئی درجن افراد ہلاک ہوئے تھے. اتوار کومتعدد افراد نے فوج کی زبردست موجودگی کے باوجود مظاہرہ کیا جس میں انھوں نے حکمراں فوجی کونسل سے عوامی قیادت والی حکومت کو اقتدار سونپے جانے کا مطالبہ کیا.سوڈان کے ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے کہا کہ دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر ام درمان میں چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ ایک احتجاجی عطبرہ میں گولی سے زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لا سکا. کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فوجی کونسل کے ملیشیا کی گولیوں سے بہت سے لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں اور وہ دارالحکومت اور صوبے کے ہسپتالوں میں ہیں.عبوری فوجی کونسل (ٹی ایم سی) کے نائب سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو نے کہا کہ وہاں سنائپر ہیں جو لوگوں پر فائرنگ کر رہے ہیں انہوں نے ریپڈ سپورٹ فورس کے تین افراد کے ساتھ پانچ عام شہریوں کو گولی کا نشانہ بنایا ہے اس میں درانداز کرنے والے افراد شامل ہیں جو پیش رفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں. سکیورٹی فورسز نے صدارتی محل کے پاس اور خرطوم کے تین مختلف اضلاع میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا‘فوج نے کہا ہے کہ کسی بھی تشدد اور ہلاکت کے لیے وہ حزب اختلاف کو ذمہ دار ٹھہرائے گی