05:39 am
 حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں شریک سعودی اتحادی افواج بکھرنے لگی

حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں شریک سعودی اتحادی افواج بکھرنے لگی

05:39 am

ابوظہبی( مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں شریک سعودی اتحادی افواج کا اہم اتحادی متحدہ عرب امارات نے اپنی 70 فیصد فوج وطن واپس بلالی۔تفصیلات کے مطابق غیر ملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً ساٹھ سے ستر فیصد اماراتی فوج یمن جنگ چھوڑ کر اور اتحادی افواج سے انخلا اختیار کرکے وطن واپس آچکی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات سعودی اتحادی افواج کا اہم اتحادی ہے،
جس کی فوج کے انخلا کے بعد یمن جنگ میں سعودی عرب کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا متحدہ عرب امارات اہم رکن ہے اور یمن کی پانچ سالہ لڑائی میں پیش پیش رہا ہے۔ البتہ اماراتی حکام کا یہ اقدام سعودی فوجی اتحاد کو ممکنہ طور پر کمزور کر سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی تقریباً دس ہزار کے قریب فوج سعودی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کھڑی تھی جن میں سے ستر فیصد فوج واپس بلا لی گئی ہے۔ یمن میں اقوام متحدہ کی مداخلت کے باوجود امن قائم نہ ہوسکا، 5 سال سے جاری لڑائی میں کوئی 94 ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں اور یمن بری طرح تباہ ہوچکا ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں کے دوران یمن میں بھوک اور بیماری کے باعث پانچ سال سے کم عمر کے 85 ہزار بچوں کی اموات ہوچکی ہیں۔ بعض اوقات حوثی باغی امداد کی مد میں دی گئی خوراک کو بھی لوٹ لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی فوجی اتحاد جس کے رکن ممالک کی تعداد پہلے مرحلے میں 34 بتائی گئی تھی، اب 41 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور اب اسے 41 رکنی اسلامی امہ فوج کہا جا رہا ہے یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے تشکیل دیا گیا تھااور یہ طے کیا گیا تھا کہ جو بھی رکن ملک اتحاد سے فائدہ اٹھانا چاہے گا، وہ باقاعدہ درخواست دے گا، جس کا جائزہ لینے کے بعد فوج اس ملک میں بھیجی جائے گی، اتحادی فوج کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی لیکن بعد میں اس اتحاد کو نہ صرف یمن کی سعودیہ مخالف تحریک کیخلاف بلکہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لۓ اس کو استعمال کیا گیا۔

تازہ ترین خبریں