04:28 pm
بھارتی آئین میں آرٹیکل 370اور 355اے کیا ہے، ان آرٹیکلز کے خاتمے سے مقبوضہ کشمیر پر کیا اثر پڑیگا

بھارتی آئین میں آرٹیکل 370اور 355اے کیا ہے، ان آرٹیکلز کے خاتمے سے مقبوضہ کشمیر پر کیا اثر پڑیگا

04:28 pm

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت کی پارلیمنٹ میں آج مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد صدارتی حکم نامہ جاری ہوا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔ بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق تھا جس کے ختم ہونے کا اعلان ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم ہو گئی
۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر بھارتی آئین میں موجود آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کیا ہے ؟ اور ان کے ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیر اور کشمیریوں کی زندگی پر کیا اثر ہو گا۔ دراصل بھارتی آئین کی دفعہ 370 ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست جموں و کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ تقسیمِ برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعدازاں مشروط طور پر بھارت سے الحاق پر آمادگی ظاہر کی تھی۔اس صورتحال میں بھارت کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیے گئے۔ تاہم ریاست کی جانب سے علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ جس پر 1951ء میں وہاں ریاستی آئین ساز اسمبلی کے قیام کی اجازت بھی دے دی گئی۔ بھارتی آئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ دراصل مرکز اور ریاستِ جموں و کشمیر کے تعلقات کے خدوخال کا تعین کرتا تھا۔یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا اور ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ اور بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی اس پر پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد اسے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور بھارت کے آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ بھارت کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر بھارتی قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔مہاراجا ہری سنگھ کے 1927ء کے باشندگان ریاست قانون کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چنانچہ بھارت کا کوئی بھی عام شہری ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائداد نہیں خرید سکتا، یہ امر صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائداد حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔اس قانون کے مطابق ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے اور صنعتی کارخانے، ڈیم اور دیگر کارخانے لگانے کے لیے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قسم کے تغیرات کے لیے ریاست کے نمائندگان کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے جو منتخب اسمبلی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ اس دفعہ کا مقصد جموں کشمیر کے ریاستی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔اس دفعہ کا محرک جموں کشمیر کے مہاراجا کے ساتھ ہوا عہد و پیمان ہے جس میں یہ کہا گیا کہ ریاست کو کسی بھی طرح بھارت کے وفاقی آئین کو تسلیم کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس دفعہ کے اہم مقاصد میں یہ بھی شامل تھا کہ ریاست پر بھارت کے مرکزی آئین کا صرف کچھ امور میں نفاذ ہوگا۔ ریاست اپنا آئین وضع کرے گی جو ریاست میں سرکاری ڈھانچے کو تشکیل دے گا۔مرکزی حکومت کی کوئی بھی انتظامی تبدیلی صرف اس وقت ریاست میں کی جا سکے گی جب ریاستی اسمبلی اجازت دے گی۔ اس دفعہ کو صرف اس وقت تبدیل کیا جاسکتا ہے جب دفعہ میں تبدیلی کے تقاضے پورے ہوں اور ریاست کی مرضی اس میں شامل ہو جس کی ترجمانی وہاں کی ریاستی اسمبلی کرتی ہے۔ جبکہ آخری مقصد یہ تھا کہ اسس دفعہ میں تبدیلی صرف ریاستی اسمبلی کی سفارشوں پر کی جاسکتی ہے، مرکز اس کا مجاز نہیں ہے۔اب سوال آتا ہے کہ آخر آئین کا آرٹیکل 35 اے کیا ہے ؟ آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت ریاست کے باشندوں کی بطور مستقل باشندہ پہچان ہوتی تھی اور انہیں بطور مستقل شہری خصوصی حقوق ملتے تھے۔ بھارت کے آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35 اے کا مسئلہ کشمیر سے بھی پُرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927ء سے 1932ء کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو 1954ء میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کر لیا گیا تھا۔ بھارت کے آئین میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے سے جموں و کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔ اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اب ریاست جموں و کشمیر کی جگہ مرکز کے زیرِ انتظام دو ریاستیں بن جائیں گی،جن میں سے ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسری کا نام لداخ ہو گا اور ان دونوں علاقوں کا انتظام و انصرام لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے۔جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہو گی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کا فیصلہ علاقہ میں سکیورٹی کی صورتحال اور مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے مطابق صدرِ مملکت تبدیلی اور حکم جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں