04:16 pm
بھارت میں واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائے جانے کا انکشاف

بھارت میں واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائے جانے کا انکشاف

04:16 pm

نئی دہلی(آئی این پی) بھارتی واٹس اپ گروپ پر مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کا انکشاف سامنے آیا، واٹس اپ گروپس میں انتخابات سے متعلقہ مواد روک کر مسلم مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کیمطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں واٹس اپ گروپ پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی واٹس اپ گروپس میں انتخابات سے متعلقہ مواد روک کر مسلم مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے، جو زور و شور سے جاری ہے جبکہ خوف کی وجہ سے مسلمان اپنا اصل نام بتانے سے بھی کترا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں اخبار فروش کو روک کر اس کا نام پوچھا گیا اور جب اس نے اپنا نام سندیپ بتایا تو اسے اصل نام بتانے کا کہا گیا جس پر اس نے گھبراتے ہوئے اپنا اصل نام فہیم بتایا۔پوچھنے والے نے مسلمان اخبار فروش پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم لوگ ہندو بچوں کو ملاوٹ شدہ کھانا بیچ رہے ہو، جس کی وجہ سے وہ بیمار ہو رہے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے ایک وکیل کا بھارتی جریدے کو ویڈیو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ دہلی کی رہائشی کالونیوں میں یہ مختصر سی 3 منٹ کی ویڈیو بھارتی واٹس اپ گروپس میں چل رہی ہے اور اسی طرح کا مسلم مخالف دوسرا مواد بھی شیئر کیا جا رہا ہے جس سے ہندوں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیل رہا ہے۔بھارتی واٹس اپ گروپس میں عام انتخابات کے بعد سے انتخابی مواد شیئر کیا جا رہا تھا جسے مکمل طور پر روک کر مسلم مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے۔خیال رہے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کو اپنے نشانے پر رکھا اور اب انتخابات جیتنے کے بعد بھی وہ مسلم مخالف بیانات دے رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں بھارت میں ڈیجیٹل خواندگی کی کمی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جہاں لوگ حقیقی اور جھوٹی خبروں میں فرق نہیں کر سکتے اور سیاسی جماعتیں اس چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں