01:36 pm
یمن کا امارات پر سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ابوظہبی کی تردید

یمن کا امارات پر سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ابوظہبی کی تردید

01:36 pm

ابوظہبی (ویب ڈیسک )ابوظہبی نے یمنی صدر کی جانب سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر جنوبی یمن میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے یمن کے شہر عدن میں 'دہشت گردوں' کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی اور کہا کہ عدن میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی محاذ جنگ سے ملنے والے ٹھوس ثبوتوں اور مصدقہ معلومات کی روشنی میں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ
'امارات نے یمن کے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے جو عرب اتحاد اور یمنی عوام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں'۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات نے عدن ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے ایک دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے جس نے حملے میں عرب اتحادی فوج کے متعدد اہلکار زخمی کردیے تھے۔انہوں نے کہا کہ 'ہمیں عرب اتحاد کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث ہر گروہ اور شخص کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے'۔واضح رہے کہ اس سے قبل یمن کی حکومت نے متحدہ عرب امارات پر عدن کے علاقے میں علیحدگی پسندوں، جنہوں نے ان کے مطابق شہر کے جنوبی حصے پر قبضہ کیا، کی حمایت میں فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا تھا۔یمن کے ڈپٹی وزیر خارجہ محمد الحضرمی کا کہنا تھا کہ 'یمنی حکومت عدن اور زنجبار کے علاقے میں سرکاری فورسز پر اماراتی فضائی حملے کی مذمت کرتی ہے جس میں متعدد شہری و فوجی جاں بحق ہوئے'۔بعد ازاں یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے الزام لگایا کہ متحدہ عرب امارات کے حملے میں 40 فوجی ہلاک ہوئے اور 70 شہری زخمی ہوئے۔ابو ظہبی نے جنوبی یمن کی آزادی کا مطالبہ کرنے والے علیحدگی پسندوں کی تربیت اور ان کے ساتھ تعاون بھی کیا ہے جبکہ وہ حوثی باغیوں کے خلاف یمنی حکومت کی لڑائی میں اتحاد کا اہم حصہ بھی ہیں۔خیال رہے کہ یمن میں قیام امن کے لیے بنائے گئے عرب اتحاد میں متحدہ عرب امارات کی فوج بھی شامل تھی تاہم حال ہی میں یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ امارات کی فورسز نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور اس نے عرب اتحاد میں شامل فورسز اور یمنی فوج کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔