01:45 pm
 انسانوں کوشدید اور تباہ کن حالات کے لیے تیار رکھنا ہو گا،آئی پی سی سی

انسانوں کوشدید اور تباہ کن حالات کے لیے تیار رکھنا ہو گا،آئی پی سی سی

01:45 pm

نیویارک(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بہت سے پریشان کن انکشافات کیے ہیں۔ ان میں عالمی سمندروں کی سطح میں ایک میٹر تک اضافہ اور بار بار آنے والے سپر طوفان بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات انتیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اےا یف پی کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل (IPCC) نے اپنی ایک ایسی اسپیشل رپورٹ کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جو باقاعدہ طور پر اگلے ماہ کی 25 تاریخ کو موناکو میں پیش کی جائے گی۔
اس رپورٹ کے مسودے میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگلی چند صدیوں میں کرہ ارض پر انسانوں کو خود کو کئی طرح کے بہت شدید اور تباہ کن حالات کے لیے تیار رکھنا ہو گا۔ اس دوران عالمی سمندر، زمین کے برف پوش خطے اور چھوٹی چھوٹی جزیرہ ریاستیں بہت بڑی بڑی تبدیلیوں سے گزریں گے۔’عالمی سمندروں کی سطح ایک میٹر تک بڑھ سکتی ہے، جو 28 کروڑ انسانوں کے بے گھر کر دے گی‘آئی پی سی سی کی اس اسپیشل رپورٹ کے مطابق، ”زمین پر انسانوں کی اس سیارے کو مسلسل گرم کرتی جا رہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مسلسل اخراج کی عادت کئی طرح کے تباہ کن نتائج کا سبب بن رہی ہے۔ ان میں عالمی سمندروں کی سطح میں وہ اضافہ بھی شامل ہے، جس کا پھر کبھی کوئی تدارک نہیں کیا جا سکے گا۔اس کے علاوہ اس خصوصی رپورٹ میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ حالانکہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو زیادہ سے زیادہ بھی صرف دو ڈگری سینٹی گریڈ تک روکے رکھنے کا تخمینہ بھی بہت ہی مثبت پسندی کی علامت ہے، تاہم یہ تبدیلی بھی ماحولیاتی تباہی کے باعث اب تک کے نقصانات کے مقابلے میں آئندہ عشروں میں 100 گنا زیادہ نقصانات کا باعث بنے گی۔ اس کیایک مثال یہ کہ آنے والے عشروں میں عالمی سمندروں کی سطح میں اضافہ ایک میٹر تک ہو سکتا ہے، جو 280 ملین انسانوں کے بے گھر ہو جانے کا سبب بنے گا اور دنیا کی بہت سی چھوٹی چھوٹی جزیرہ ریاستیں شدید تر نقصانات کا سامنا کریں گی کیونکہ تب یہ جزیرے مکمل یا جزوی طور پر سمندر میں ڈوب جائیں گے۔جہاں تک زمین کے قطبی حصوں میں برف کی بہت موٹی تہہ کے بڑی تیز رفتاری سے پگھلتے جانے کا تعلق ہے، تو کرہ ارض کا یہ حصہ، جو ‘کرائیوسفیئر‘ کہلاتا ہے، انسانوں کی پیدا کردہ عالمی حدت کا بری طرح نشانہ بنے گا۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ زمین کے برف پوش خطوں میں آج بھی سالانہ 400 بلین ٹن سے زیادہ برف پگھل کر ختم ہو رہی ہے۔ ان حالات میں مستقبل میں بڑے بڑے پہاڑی گلیشیئر بھی ختم ہو جائیں گے اور یوں انسانیت پینے کے صاف پانی کے سب سے بڑے قدرتی ذرائع سے محروم بھی ہو سکتی ہے۔ تازہ اور میٹھے پانی کی یہ قلت عالمی سطح پر کشیدگی اور تنازعات کو بھی جنم دے گی۔اقوام متحدہ کے اس ماحولیاتی پینل نے خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ سن 2100 تک دنیا میں ہر سال اتنی زیادہ تعداد میں اور انتہائی تباہ کن سپر طوفان اور سیلاب آنے لگیں گے کہ ان کی وجہ سے ہونے والی تباہی آج تک کی سالانہ اوسط کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تک ہو سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ میں گوٹیریش نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ زمینی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے حوالے سے اقدامات کے تناظر میں ابھی دنیا درست راستے پر گامزن نہیں ہوئی ہے۔ اپنے ایک نہایت سخت بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست کے ذریعے اس مسئلے کا حل رفتہ رفتہ کم زور پڑتا جا رہا ہے اور بہت سی جزیرہ ریاستیں بلکہ پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کا نشانہ بننے کی راہ پر ہیں۔ستمبر میں نیویارک عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا انعقاد ہونا ہے اور اسی تناظر میں گوٹیرش جنوبی پیسفک خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔ اپنے اس دورے میں وہ فجی، تووالو اور وانوآتو جیسے جزائر کا رخ بھی کریں گے۔ یہ تمام وہ جزائر ہیں، جو بلند ہوتی سمندری سطح کی وجہ سے بقا کے خطرے سے دوچار ہیں۔اپنے بیان میں گوٹیرش نے کہا، ہم ہر جانب مظاہرے دیکھ رہے ہیں اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ ہم پیرس معاہدے میں طے کیے گئے اہداف کی جانب بڑھنے کے راستے پر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پیرس معاہدے میں زمینی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 1.5 سینٹی گریڈتک بلندی کی حد مقرر کی گئی تھی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آڈرن کے ہم راہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں گوٹیرش نے کہا، ’’عجیب بات یہ ہے کہ زمین پر جوں جوں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح ہو رہے ہیں، سیاسی اقدامات اتنے ہی کم زور ہوتے جا رہے ہیں۔تاہم انہوں نے اس موقع پر نیوزی لینڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ویلنگٹن کی قیادت نے نہایت اہم اقدامات کے ذریعے ملک میں نئے قوانین متعارف کروائے جن کے تحت سن 2050 تک یہ ملک کاربن کے استعمال سے مکمل طور پر دور ہو جائے گا۔ نیوزی لینڈ کے ان قوانین میں فقط زرعی شعبے کو کاربن سے چھوٹ دی گئی ہے۔اس موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم آڈرن نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں اور اسے نظرانداز کیا گیا تو یہ بہت بڑی غفلت اور کوتاہی ہو گی۔