05:22 pm
ترکی میں حکمراں جماعت کے تین سابق وزراء نے پارٹی کی رکنیت سے استعفا دے دیا

ترکی میں حکمراں جماعت کے تین سابق وزراء نے پارٹی کی رکنیت سے استعفا دے دیا

05:22 pm

انقرہ (ویب ڈیسک )ترکی میں حکمراں جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی" سے تعلق رکھنے والے تین سابق وزراء نے پارٹی کی رکنیت سے استعفا دے دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ جماعت کو پہلے ہی وسیع پیمانے پر انحراف کا سامنا ہے۔پارٹی سے مستعفی ہونے والوں میں سعد الدین ارجین (سابق وزیر انصاف)، بشیر اطالئی (سابق وزیر داخلہ) اور نہاد ارجون (سابق وزیر صنعت و بیرونی تجارت) شامل ہیں۔توقع ہے کہ مستعفی ارکان اس جماعت میں کلیدی عہدوں پر کام کریں گے
جس کی تاسیس کے لیے نائب وزیراعظم اور سابق وزیر معیشت اور وزیر خارجہ رہنے والے علی باباجان کوشش کر رہے ہیں۔ باباجان جولائی میں "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی سے مستعفی ہو گئے تھے۔ادھر ترکی کے میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اولو دارالحکومت انقرہ میں ایک نئی جماعت کا صدر دفتر قائم کر رہے ہیں۔ ترک اپوزیشن کے میڈیا کا کہنا ہے کہ اولو نے ایک بار پھر حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولمپنٹ پارٹی اور صدر ایردوآن کی پالیسیوں کے خلاف نکتہ چینی کی ہے۔داؤد اولو نے اخباری بیان میں کہا کہ اگر دہشت گردی کے انسداد کے پلندے کھل گئے تو بہت سی شخصیات لوگوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ان کا اشارہ ترک سینئر ذمے داران کا دہشت گردی کی سپورٹ میں ممکنہ طور پر ملوث ہونے کی جانب تھا۔ اولو نے مزید کہا کہ سال 2015 میں یکم جون سے یکم نومبر تک کا عرصہ ترکی کی تاریخ کا مشکل ترین اور سنگین ترین عرصہ شمار ہوتا ہے۔یہ وہ عرصہ تھا جس دوران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی حکومت نے ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی کے ارکان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات عائد کیے۔

تازہ ترین خبریں