11:45 am
 شنگھائی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کابھارتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے بڑااعلان کردیا

شنگھائی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کابھارتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے بڑااعلان کردیا

11:45 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کو ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا گیا۔سفارتی محاذ پر پاکستان کو ایک اور اہم کامیابی مل گئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش کر دی۔مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب شنگھائی تعاون تنظیم نے بھی مسئلہ کشمیر حل کروانے کی پیشکش کر دی ہے۔سربراہ سنگھائی تعاون تنظیم ولادی میر نوروف نے کہا ہے کہ مسئلے کا حل کا بنیادی اصول ہے کہ کوئی یک طرفہ اقدامات نہ اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اس کے پرامن حل کے لیے بہترین کوششیں کی جائیں گی،ایس سی او کے سربراہ نے کہا ہے
کہ پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ ایشوز ہی سہی مگر ممبر ممالک ایک طرف خاموش ہو کر نہیں بیٹھ سکتے۔شنگھائی تعاون تنظیم میں چین، پاکستان ، روس،بھارت،کرغستان،تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں۔لیکن جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے درمیان جی سیون سمٹ کے دوران فرانس میں ملاقات ہوئی تو بھارتی وزیراعظم نےمسئلہ کشمیرپرامریکی صدرکی ثالثی سےانکارکردیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستا ن اور بھارت دونوں ممالک کے وزراء اعظم سے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ملکر مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان سے بھی بات ہوئی ہے۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ پاک بھارت کے درمیان کسی مسئلے میں ثالث کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے۔جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاملہ باہمی ہے تو پہلے ہی حل ہوجانا چاہیے تھا۔ پاکستان اور بھارت ملکر غربت کے خلاف لڑیں۔ پاکستانی وزیراعظم کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ غربت کے خلاف ملکر لڑیں۔ مودی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تمام مسائل دوطرفہ ہیں، دوطرفہ مسائل کے حل کیلئے ہم کسی تیسرے ملک کو زحمت نہیں دیتے۔ اس وقت کشمیر کی صورتحال کنٹرول میں ہے۔ فی الحال ہمیں بات کرنے دیں ،آپ کی ضرورت پڑی تو ضروربلائیں گے۔

تازہ ترین خبریں