02:56 pm
بولٹن کی برخاستگی ۔۔۔’جنگوں کے عاشق‘ سے ٹرمپ کے اہم اختلافات کیا تھے؟جانیں

بولٹن کی برخاستگی ۔۔۔’جنگوں کے عاشق‘ سے ٹرمپ کے اہم اختلافات کیا تھے؟جانیں

02:56 pm

واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو برطرف کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "میں نے بولٹن کی تجاویز سے شدید اختلاف کیا۔ اسی طرح انتظامیہ کے دیگر افراد نے بھی کیا۔ لہذا میں نے بولٹن سے استعفا طلب کر لیا"۔ڈونلڈ ٹرمپ کے منصب صدارت پر براجمان ہونے کے بعد جان بولٹن قومی سلامتی کے مشیر کے منصب پر فائز ہونے والے تیسرے شخص تھے۔ادھر جان بولٹن نے ایک ٹویٹ میں امریکی صدر کے موقف کے برعکس بیان دیتے ہوئے کہا
کہ "میں نے خود پیر کے روز ٹرمپ کو اپنا استعفا پیش کیا تھا۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ اس موضوع پر اگلے روز بات کریں گے"۔اس برطرفی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر خراجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا کہ امریکی انتظامیہ کی ایک شخصیت کے رخصت ہونے سے خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تاہم امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ بولٹن کے دُور ہونے سے اُن عہدیداران کے لیے میدان زیادہ صاف ہو سکتا ہے جو ٹرمپ کو ایران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے اکسا رہے ہیں۔بولٹن کی برطرفی مائیک پومپیو کے ساتھ کئی ماہ سے جاری ان کے اختلافات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان اختلافات میں امریکا کو درپیش خارجہ پالیسی کے سب سے بڑے ایشوز سے متعلق عدم مطابقت شامل ہے۔ شمالی کوریا، ایران، افغانستان اور وینزویلا کے حوالے سے عدم اتفاق کے علاوہ بولٹن اور پومپیو کے بیچ دیگر اختلافات کے وجود نے بولٹن کو کئی پہلوؤں سے کمزور کر دیا۔اس سلسلے میں سابق امریکی سفیر اور وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ایڈم ایرلے نے واضح کیا کہ "بولٹن کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت میں ایک عرصے سے کمی ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن سے ملاقات کی تو بولٹن نے اس کی مخالف کی تھی۔ اسی طرح انہوں نے امریکی ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کی تائید کی تھی مگر ٹرمپ نے ایسا نہیں کیا"۔البتہ افغانستان کے حوالے سے حالیہ اختلاف گویا کہ تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس موضوع پر بولٹن اور ٹرمپ کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ اس دوران بولٹن نے طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدے تک پہنچنے اور کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہ نماؤں کی میزبانی کے حوالے سے ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کی۔ بولٹن کے نزدیک ٹرمپ کسی معاہدے کے بغیر بھی افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا عمل میں لا سکتے ہیں۔اسی طرح بولٹن نے روس اور افغانستان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے موقف کا دفاع کرنے کے لیے ٹی وی پروگراموں میں شرکت سے بھی انکار کر دیا۔بولٹن کا کہنا ہے کہ وہ بڑے صنعتی ممالک کے گروپ میں روس کی واپسی کے مخالف ہیں اور ٹرمپ اور ایرانی صدر کے درمیان ممکنہ ملاقات کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بولٹن کے جنگوں کے شوق نے اپنے طور پر اختلافات کو بڑھانے میں اضافی عامل کا کردار ادا کیا۔ایک امریکی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز اخبار کو بتایا کہ ٹرمپ نے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ "اگر معاملہ بولٹن پر چھوڑ دیا جاتا تو امریکا آج 4 جنگوں میں مصروف ہوتا"۔اگرچہ بولٹن کی برطرفی باعث حیرت نہیں تاہم اس وقت یہ متوقع نہ تھی۔ قومی سلامتی کے مشیر کو منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں شریک ہونا تھا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔پومپیو سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا یہ خبر (برطرفی) اچانک تھی تو انہوں نے جواب دیا کہ "مجھے کوئی بات حیرت میں نہیں ڈالتی"۔کانگرس اور ایوان صدارت سے متعلق تحقیقی مطالعات کے مرکز میں پالیسی ڈائریکٹر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ "آخرکار اس انتظامیہ کا فیصلہ اکیلے ٹرمپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ تاہم اس برطرفی سے ایک مضبوط ونگ سے خلاصی حاصل ہو جائے گی جو یہ چاہتا تھا کہ ایران پر انتہائی دباؤ ڈالنے کی پالیسی میں عسکری پہلو بھی ہو۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ میں ان اطراف کو تقویت دے گا جو یہ چاہتے ہیں کہ انتہائی دباؤ کی پالیسی کا نتیجہ ایران میں نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک معاہدے کی صورت میں سامنے آئے ... ٹرمپ اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ شمالی کوریا کا نمونہ کامیاب ہے۔ وہ ایران کے ساتھ اسی کو دہرانا چاہتے ہیں جب کہ بولٹن ایسا نہیں چاہتے تھے"۔

تازہ ترین خبریں