02:55 pm
سعودی آئیل ریفائنری پر حملے میں ایران ملوث ہے یا نہیں، سعودی عرب نے باضابطہ اعلان کر دیا

سعودی آئیل ریفائنری پر حملے میں ایران ملوث ہے یا نہیں، سعودی عرب نے باضابطہ اعلان کر دیا

02:55 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکومت کے مطابق آئل ریفائنری پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار ایرانی ہیں۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ سعودی آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے میں استعمال کیے گئے ہتھیار ایرانی تھے۔ سعودی عرب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آئل ریفائنری پر جو حملے ہوئے ان میں ایران کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہتھا کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں۔
مائیک پومپیو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں۔ پومپیو نے مزید کہا تھا کہ شدت پسندی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کئے گئے ہوں گے۔ اس بیان پر ایران نے شدید ردِعمل دیا تھا اور ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مائیک پومپیو نے دباؤ ڈالنے کی پالیسی میں ناکامی پر اپنی سمت تبدیل کر لی ہے ، امریکہ اور اس کے اتحادی یمن میں پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ امریکہ کا خیال تھا کہ ہتھیاروں کی برتری اسے فوجی فتح دلا ئے گی ۔ ان کا کہناتھا کہایران پر الزام تراشی سے تباہی ختم نہیں ہو گی ، جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کیلئے ایران کی 15 اپریل کی تجویز کو قبول کیا جائے ۔ اب سعودی عرب نے بھی یہ کہا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہٹھیار ایرانی تھے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں دو آئل ریفائنریز پر ڈرون حملے کیے گئے جس کے سبب سعودی عرب کی آدھی سے زیادہ آئل پروڈکشن کو بند کر دیا گیا تھا تاہم اب آئل پروڈکشن کا کام بحال ہو گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں