01:46 pm
وہ شراب پی کر میرے فلیٹ میں گھس آئے اور مجھے شراب پینے پر مجبور کیا

وہ شراب پی کر میرے فلیٹ میں گھس آئے اور مجھے شراب پینے پر مجبور کیا

01:46 pm

کھٹمنڈو(ویب ڈیسک )نیپا ل کی پارلیمنٹ کے سپیکرکرشنابہادرمہاراجہ کی جانب سےریپ الزامات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دینے کے ایک ہفتے بعدپولیس نے گرفتارکرلیا۔کرشنابہادرمہاراپرپارلیمنٹ سیکرٹریٹ کے ملازمہ نے نشہ کرنے کے بعدریپ کی کوشش کے الزامات لگائے تھے۔متاثرہ خاتون کے مطابق کرشنا بہادر مہارا گزشتہ ماہ 29 ستمبر کو ان کے فلیٹ میں شراب پی کر گھس آئے اور پہلے انہیں شراب پینے پر مجبور کیا اور بعد ازاں ان کے مبینہ ریپ کرنے کی کوشش کی۔
خاتون کے مطابق جب انہوں نے کرشنا بہادر مہارا کو پولیس بلانے کی دھمکی دی تو وہ چلے گئے۔ملازمہ نے پارلیمنٹ کے اسپیکر پر سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد کرشنا بہادر مہارا کو کئی افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ملازمہ کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات لگائے جانے کے بعد رواں ماہ یکم اکتوبر کو انہوں نے شفاف تحقیقات کے لیے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔کرشنا بہادر مہارا نے خاتون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔پولیس نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ متاثرہ خاتون نے کرشنا بہادر مہارا کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا اس لیے کیس کی تفتیش شروع نہیں کی جا سکی۔ بعد ازاں خاتون کی جانب سے پولیس کو تحریری شکایت درج کروائے جانے کے بعد معاملے کی تحقیق شروع کی گئیں اور پولیس نے کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔عدالت نے استعفیٰ دینے والے اسپیکر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جس کے بعد پولیس نے کرشنا بہادر مہارا کو گزشتہ شب کو اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔نیپال ٹائمز‘ کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کرشنا بہادر مہارا کی رہائش گاہ پر پہنچی اور انہیں اپنی گاڑی میں جیل منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن سابق اسپیکر نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔سابق اسپیکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر پولیس کے ساتھ گئے، اس موقع پر ان کی رہائش گاہ کے باہر ان کے حامی بھی موجود تھے۔یہ پہلا موقع تھا کہ نیپال میں کسی اہم ترین سیاستدان و حکمران کو ’ریپ‘ کیس میں گرفتار کیا گیا۔

تازہ ترین خبریں