05:58 am
 ترکی میں پڑے امریکا کے 50ایٹم بم دونوں ممالک میں کشیدگی کی اصل وجہ ہیں

ترکی میں پڑے امریکا کے 50ایٹم بم دونوں ممالک میں کشیدگی کی اصل وجہ ہیں

05:58 am

انقرہ (نیوز ڈیسک ) ترکی میں پڑے امریکا کے 50ایٹم بم دونوں ممالک میں کشیدگی کی اصل وجہ ہیں، یہ ایٹم بم باہمی تعلقات میں سودے بازی کا بھی اہم نکتہ بن گئے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق روس سے سرد جنگ کے دوران امریکا نے یہ بی 61ایٹم بم ترکی کی شامی سرحد کے قریب واقع ایئر بیس اینجرلیک میں رکھے تھے، اس صورتحال میں ترکی کے شام آپریشن کی وجہ سے ٹرمپ نے ان پر پابندیاں لگانے کااعلان کردیا ہے جبکہ ترک صدر آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شام کی سرحد سے 100میل دور اینجرلیک ایئر بیس جسے امریکا ترکی کیساتھ شیئر کرتا ہے، وہاں بی 61 نیوکلیئر بموں کی موجودگی واشنگٹن کے اندازوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ترک صدر بھی اعلان کرچکے ہیں کہ ہمیں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی۔ امریکی انتظامیہ خاموشی سے وہ نیوکلیئر بم اینجرلیک ایئر بیس سے منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔امریکی سینئر حکام کے مطابق وہ نیوکلیئر بم صدر اردوان کے یرغمال بن چکے ہیں، ان کی منتقلی امریکا ترکی الائنس کا عملا خاتمہ ثابت ہو گی۔ یہ بم سرد جنگ کے دور کی یادگار ہیں، اور ترکی کے علاوہ دیگر چار نیٹو رکن ریاستوں میں بھی رکھے گئے ہیں ۔وہ بم واپس امریکا لانے کیلئے خصوصی طیارے بھیجناپڑیں گے، جبکہ ترکی کے پاس نیوکلیئر بمبوں کو استعمال کرنے کے طیارے نہیں۔ ایک سابق امریکی افسر نے بتایا کہ اوباما دور میں ان نیوکلیئر بمبوں کو واپس لانے کی باتیں ہوئیں جس کی وجہ 2016 کی ترکی میں فوجی بغاوت سے پیدا سکیورٹی خدشات تھے۔