سودی نظام پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

سودی نظام پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

6 days ago.

رمضان المبارک کے دوران معمولات تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس کا آغاز شعبان المعظم کے آخری ہفتہ سے ہی ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے کچھ ضروری کام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس سال شعبان کے آخری ایام میں اسلام آباد کا ایک اہم سفر ہوا جس کے مشاہدات میں قارئین کو شریک کرنا ضروری تھا مگر تاخیر ہوگئی۔ شریعہ اکادمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے مفتیان کرام کے چھ روزہ تربیتی کورس کا اہتمام کر رکھا تھا اور  مئی کو اس کا آخری روز تھا۔  ڈاکٹر مشتاق احمد اور  علی اصغر کا ارشاد تھا کہ میں اس میں ضرور حاضری دوں، چنانچہ تعمیل حکم میں حافظ محمد عثمان حیدر کے ہمراہ اسلام آباد پہنچا اور مذکورہ کورس کے شرکا سے ان کے موضوع پر گفتگو کے علاوہ انسدادِ سود کی مہم کے حوالہ سے شریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک مستقل نشست میں حاضری ہوگئی جبکہ وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس فدا محمد خان کے ساتھ مختصر ملاقات کا موقع بھی مل گیا جو مفتیان کرام کے کورس میں لیکچر کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے۔   

نہم جماعت کی کتاب سے عقیدہ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج!

نہم جماعت کی کتاب سے عقیدہ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج!

13 days ago.

مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلامی عقائد و احکام کی تعلیم سے آراستہ کرنا کسی بھی مسلم ملک کی حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے اور نوآبادیاتی اور غلامی سے قبل ہزار بارہ سو سال تک مسلمان حکومتیں اس فریضہ سے عہدہ برآ ہوتی چلی آرہی ہیں، البتہ بہت سے مسلم ممالک پر استعمار کے تسلط اور نوآبادیاتی ماحول قائم ہونے کے بعد قابض غیر مسلم حکومتوں نے اسے اپنی ریاستی و حکومتی پالیسی سے خارج کر دیا ہے۔ جبکہ برصغیر پاک و ہند میں تو برطانوی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی دی اس پالیسی کے مرتب لارڈ میکالے نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم دے رہے ہیں جس سے تعلیم و تربیت پانے والے مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ اسی لیے مستقبل کے خدشات پر نظر رکھنے والے علما کرام اور اہل دانش نے دینی تعلیم کا الگ سے پرائیویٹ نظام قائم کر کے مسجد و محلہ کی سطح پر قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم کا ماحول بنایا اور دینی مدارس کا ایک وسیع جال پورے جنوبی ایشیا میں پھیل گیا، جو آج بھی پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ مسلمان بچوں کو دینی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے اور ان کے عقیدہ و ثقافت کی حفاظت میں مصروف ہے۔   

مانسہرہ میں ناموس رسالت  ؐ’’  ملین مارچ‘‘

مانسہرہ میں ناموس رسالت ؐ’’ ملین مارچ‘‘

23 days ago.

ملک بھر میں جمعیت علما اسلام پاکستان کی تنظیم نو کا کام جاری ہے۔ رکن سازی کے بعد مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے اور مرکزی و صوبائی جماعتی انتخابات کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ہی تحفظ ناموس رسالتؐملین مارچ کے عنوان سے اجتماعات بھی تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ایک درجن کے لگ بھگ شہروں میں کامیاب عوامی ریلیوں کے بعد اب 28 اپریل کو مانسہرہ میں بڑا عوامی مظاہرہ کرنے کی تیاریاں نظر آرہی ہیں۔ بعض دوستوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی اور مجھ سے بھی مختلف مقامات سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان پے در پے عوامی مظاہروں کی آخر ضرورت کیا ہے؟ میں مولانا فضل الرحمٰن کی اس پالیسی کے بارے میں اس سے قبل اس کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہے اور ان کا رخ بھی صحیح ہے، البتہ رفتار کی تیزی پر میرے ذہن میں بھی اس حد تک تحفظ ضرور موجود ہے کہ ابھی شاید فائنل رائونڈ کا وقت نہیں آیا اور اس سے قبل بہت سا ہوم ورک باقی ہے۔ میرے خیال میں اس حوالہ سے دو تین باتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حجۃ اللہ البالغہ پر چند تعارفی دروس

حجۃ اللہ البالغہ پر چند تعارفی دروس

a month ago.

معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی کے رئیس مولانا محمد الیاس مدنی کا ارشاد تھا کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی معرکتہ الآرا کتابحجۃ اللہ البالغہپر ان کے ہاں کچھ تعارفی دروس کا اہتمام ہو جائے، ملک کے مختلف علاقوں کے دیگر متعدد احباب کی طرف سے بھی ایک عرصہ سے یہ فرمائش جاری ہے۔ خود میرا حال یہ ہے کہ، کسی تکلف کے بغیر، خود کو اس کا پوری طرح اہل نہیں سمجھتا اور بہت سے امور میں تشنگی محسوس کرتا ہوں لیکن اس کی دن بدن بڑھتی ہوئی ضرورت اور اہمیت کے باوجود اس سلسلے میں ایسے عمومی دائرے میں اس کی تکمیل کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دیتا جس سے مختلف الخیال اور متنوع ذوق رکھنے والے حضرات فائدہ اٹھا سکیں، اور چونکہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے، اس لیے مولانا الیاس سے عرض کیا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحان والا ہفتہ عام طور پر میرے پاس فراغت کا ہوتا ہے اس لیے اگر اس موقع پر کوئی صورت بن سکے تو حاضر ہوں، انہوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے  سے 10 اپریل تک معہد الخلیل الاسلامی میں اس ترتیب کے ساتھ دروس کا پروگرام بنا لیا کہ روزانہ ظہر سے عصر کے درمیان دو درس ہو جائیں اور آٹھ دروس میں کتاب کے مقدمہ کے علاوہ ارتفاقات اور استنباط الشرائع کے ابواب کا خلاصہ عرض کر دیا جائے۔ اس پروگرام کے لیے 6 اپریل کو اپنے منجھلے پوتے محمد ہلال خان ناصر کے ہمراہ کراچی پہنچ گیا ہوں اور 10 یا 11 اپریل کو واپسی کا ارادہ ہے، ان شا اللہ تعالیٰ۔  

قومی رواداری پر ایک اہم سیمینار

قومی رواداری پر ایک اہم سیمینار

2 months ago.

27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام سابق وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید محمد امین الحسنات شاہ نے کیا اور انہی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا عبد الغفور حیدری، راجہ محمد ظفر الحق، مولانا غلام محمد سیالوی، ڈاکٹر قبلہ ایاز، علامہ محمد  امین شہیدی، علامہ سید حامدسعید کاظمی، پیر نقیب  الرحمن،علامہ امین شہیدی،علامہ عارف واحدی، پیرمعظم الحق، صاحبزادہ سلطان احمد علی، ڈاکٹر محمد حبیب اللہ چشتی ، پیر محمد ممتاز احمدضیا،علامہ احسان الحق صدیقی،علامہ ساجد چشتی ،علامہ رانا عبدالرحیم شوکت اور مختلف مکاتب فکر کے دیگر سرکردہ راہنمائوں نے شرکت کی اور ملک میں رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی وحدت کے فروغ کے حوالہ سے جدوجہد کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ راقم الحروف بھی اپنے رفقا پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک، حافظ عبدالوحید اور دیگر حضرات کے ہمراہ شریک ہوا اور کچھ معروضات پیش کیں۔ سیمینار میں ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا جو درج ذیل ہے۔ 

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

2 months ago.

(گزشتہ سےپیوستہ) حضرت مجدد الف ثانی کے کام کا سب سے بڑا ذخیرہ ان کے مکتوبات ہیں۔ مجدد الفؒ ثانی نے جہانگیر بادشاہ کے جو بڑے بڑے معاون تھے، درباری تھے، حکمران تھے، سردار تھے، جرنیل تھے، ان سے خط و کتابت کے ذریعے شخصی رابطے کیے۔ لابنگ اور بریفنگ کے ذریعے اپنے موقف پر ان کی حمایت حاصل کی۔ اور آج کا بڑا ہتھیار بھی یہی ہے۔ بریفنگ کرنا اور لابنگ کرنا، مقابلے پر آئے بغیر، کوئی محاذ گرم کیے بغیر، ساتھ مل جل کر ذہن سازی کرنا اور اصلاح کرنا ۔ چنانچہ بجائے اس کے کہ عوام میں جلسے کریں، لوگوں کو حکمرانوں کے خلاف اکسائیں اور بغاوت کا ماحول پیدا کریں، انہوں نے سرداروں کو مخاطب کیا اور ان سے بات چیت کی۔ بلکہ جہانگیر کے اپنے مصاحبین میں ساڑھے تین سال تک رہ کر ایک ایک کی ذہن سازی کی۔ حتی کہ ان کی اس محنت کا ثمرہ یہ نکلا کہ خود جہانگیر نے اپنے باپ کے دین سے دستبرداری اختیار کی اور دین اسلام کے اصل

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) مارٹن لوتھر نے 1546 میں وفات پائی جبکہ اکبر پیدا ہوا 1542 میں اور فوت ہوا 1605 میں۔ یہ وہ دور تھا جب مغرب میں پوپ کے خلاف تحریک چلی تھی اور مذہب پر پوپ کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس کا ایک خاص پس منظر ہے۔ وہ یہ کہ کیتھولک عیسائیت میں مذہب کی تشریح اور تعبیر کا مکمل اختیار پاپائے روم کے ہاتھ میں ہے۔ پاپائے روم اور اس کی کونسل کی تشریح کو ہی مذہب سمجھا جاتا ہے اس میں کسی دلیل کی ضرورت یا کسی چیلنج کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تو مارٹن لوتھر نامی ایک پادری نے پاپائے روم کی اس اتھارٹی کو چیلنج کیا تھا یہ کہہ کر کہ ہم مذہب پر پاپائے روم کی اجارہ داری نہیں مانتے اور بائبل کی تشریح میں پاپائے روم کو ہم فائنل اتھارٹی تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے کہ مارٹن لوتھر نے کس طرح بغاوت کر کے اصلاح مذہب کی تحریک چلائی اور پھر اس کے نتیجے میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس تحریک کے نتیجے میں عیسائیت میں ایک نیا فرقہ پروٹسٹنٹ کے نام سے تشکیل پایا، اس بنیاد پر کہ مذہب کی تشریح پر چرچ اور پاپائے روم کی اجارہ داری نہیں ہے۔ جو آدمی بھی بائبل کو کامن سینس سے سمجھ لیتا ہے وہی اس کی تشریح ہے۔ اس تحریک کو کئی ناموں سے یاد کرتے ہیں، اصلاح مذہب کی تحریک ، آزاد ی کی تحریک، لبرٹی اور ذہنی آزادی کی تحریک وغیرہ۔