انسانی حقوق اور اسلام

انسانی حقوق اور اسلام

20 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) ابلیس کا کہنا تھا کہ اسلام نے عدل و انصاف کا جو نظام دیا ہے اس نے سرمایہ داری کی جڑ کاٹی ہے ۔ اگروہ نظام قائم ہو گیا تو پھر ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ اسی خطاب میں اس نے جمہوریت کے حوالے سے بھی یہ بات کہی کہ:  ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خودشناس و خودنگر یہ ہے جمہوری نظام کے بارے میں اقبال کی رائے! اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیے جو سیاسی نظام وضع کیا گیا ہے وہ جمہوریت ہے‘جبکہ اصل فتنہ سرمایہ داری نظام ہے۔  والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ تین مسائل ایسے ہیں جن میں انسانی عقل سو فیصد عاجز ہے۔ ان میں ہمیں آسمانی ہدایت لازماً چاہیے، اس لیے کہ انسان اپنی عقل سے ان میں معتدل راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ (1) پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟ اس میں ہمیشہ انسانی تاریخ میں دو انتہا ئیں رہی ہیں۔ زیادہ تر تو عورت کو اس بری طرح کچلا گیا ہے کہ اس کا استحصال ہوا ہے‘ لیکن کبھی کبھی عورت اس طور سے اُبھری ہے کہ وہ قلوپطرہ بنی ہے۔ اسی طریقے سے آج بھی عورت کو آزادی کے نام پرسبز باغ دکھا کر باہر نکالا گیا ہے‘ جس نے پورے معاشرے کو تلپٹ کر کے رکھ دیاہے۔ عورت کو جتنا بے وقوف اس زمانے میں بنایا گیا ہے، اس سے پہلے ایسا کبھی نہ تھا۔ عورت سمجھ رہی ہے کہ اس نے کامیابی کے بڑے اونچے اہداف حاصل کر لیے ہیں‘جبکہ حقیقت میں اسے دو طرف سے کچلا جارہا ہے۔ لہٰذا مرد اور عورت

حزب الشیطان ٔسورئہ مجادلہ کی روشنی میں

حزب الشیطان ٔسورئہ مجادلہ کی روشنی میں

26 days ago.

قارئین ! آج ہم سورۃ المجادلہ کی آیات  12 تا 19 کا مطالعہ کریں گے، ان شاء اللہ۔ اس سورت میں خاص طور پر مسلمانوں کی اس اجتماعیت سے متعلق جو غلبہ و اقامت دین کے لیے کوشاں ہو، تفصیلی راہنمائی  کے بعض اہم گوشے واضح کیے گئے ہیں۔ یہ واحد سورت ہے جس میں حزب اللہ اور حزب الشیطان کے الفاظ ایک دوسرے کے مقابل لائے گئے ہیں۔ حزب اللہ کا لفظ قرآن مجید میں اس سے پہلے سورۃ المائدہ میں بھی آیا ہے۔ ترتیب مصحف میں سورۃ المائدہ اگرچہ پہلے ہے، تاہم یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں اور دونوں ہی مدنی دور کے آخری حصے سے متعلق ہیں، جب حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہو گیاتھا۔ یہاں یہ واضح کیا گیا کہ کون لوگ حزب اللہ کا حصہ ہیں اور کون ہیں جو حزب الشیطان میں شامل ہیں، نیزدونوں گروہوں کا کردار اور اوصاف کیا ہیں۔ چنانچہ یہ بہت اہم موضوع ہے ۔ اس وقت ہم جس دور میں جی رہے ہیں ،اس میں حق وباطل کے درمیان ازل سے جاری کشمکش منطقی انتہا کوپہنچ رہی ہے۔ معرکہ حق و باطل ہی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ کون اللہ کا وفادار ہے اور کون شیطان کا ساتھی ہے۔ ایمان کے دعوے توبہت سے لوگ کرتے ہیں مگر کون فی الواقع ایمان والا ہے ، یہ تبھی معلوم ہوتا ہے جب امتحانات اور آزمائشیں آتی ہیں۔ہماری یہ زندگی آزمائش ہے ۔ اس آزمائش میں خیرو شر کی کشمکش کا بہت بڑا دخل ہے۔ انسان کے داخل اور خارج میں کچھ خیر کی قوتیں ہیں اور کچھ شر کی قوتیں۔ خیر کی قوتوں میں فطرت سلیمہ، روح انسانی اور صالح افراد ہیں اور شر کی قوتوں میں انسان کا نفس امارہ، شیطان اور غلط ماحول اور افراد ہیں۔ یہ قوتیں برسرپیکار رہتی ہیں۔ اسی سے دو گروہ وجود میں آجاتے ہیں:حزب اللہ اور حزب الشیطان۔

فتنۂ دجال کی حقیقت

فتنۂ دجال کی حقیقت

29 days ago.

سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف جڑواں سورتیں ہیں۔ دونوں قرآن حکیم کے بالکل وسط میں ہیں اورحکمت قرآن کا عظیم خزانہ ہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرلے وہ دجالی فتنے کے اثر سے محفوظ رہے گا۔بعض روایات میں آخری دس آیات کا تذکرہ ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دجالی فتنہ ہے کیا؟احادیث میں دجالی فتنے کے خدوخال ملتے ہیں جن کے ذریعے ہم دجالی فتنے کی حقیقت اور اس کا سورہ کہف کے مضامین سے تعلق سمجھ سکتے ہیں۔دراصل دجال ایک شخصیت کا نام بھی ہے جو قیامت سے قبل ظاہر ہوگا لیکن ایک دجالی فتنہ ہے جس کی کچھ علامات ہیں جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔مثلاً دجال کی ایک خصوصیت تیز رفتار ی بھی ہے کہ وہ پورے کرئہ ارضی کا چکر چالیس دنوں میں مکمل کرلے گا۔اس کی سواری کا قدم اتنا بڑا ہوگا جتنا فاصلہ مدینہ اور شام کا ہے۔موجودہ دور میں ہوائی جہاز نے جس طرح فاصلوں کو معدوم کردیا ہے اس سے اس کی تیزرفتار ی کا معاملہ بآسانی سمجھ میں آتا ہے۔اس کے علاوہ دجال کے بارے میں آتا ہے کہ اس کی آواز کے لوگ بیک وقت سن سکیں گے۔