چو طرفہ   یلغار   اور  میر کا  شعر   !  

    چو طرفہ   یلغار   اور  میر کا  شعر   !  

8 days ago.

 گوادر کے ہوٹل پر دہشت گرد حملہ ناکام ہوا۔ تین دہشت گرد واصل بہ جہنم ہوئے ۔ راہ چلتا بچہ بھی آنکھیں بند کر کے بتا سکتا ہے کہ حملے کا ہدف کیا تھا ؟ دہشت گردوں کے مقاصد کیا تھے ؟ اور ان دہشت گرد کٹھ پتلیوں کی ڈوریں کون سی قوتیں ہلا رہی ہیں ؟ پی سی ہوٹل گوادر میں مقیم چینی مہمان ہی دہشت گردوں کا بنیادی ہدف تھے ۔  حملے کے ذریعے دشمن نے کثیرالجہتی پیغامات دیئے ہیں  ! اول، بلوچستان خصوصاً گوادر اور  اُس کے گردو نواح غیر ملکیوں کے لیے محفوظ نہیں ۔ دوم ، سی پیک منصوبہ ہمہ وقت حریفوں کی زد میں ہے۔ شاہراہیں اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر ہو بھی گیا تو مسلسل دہشت گرد حملوں کی وجہ سے بھر پور سرمایہ کاری کی راہ روکی جائیگی  ۔ سادہ لفظوں میں دشمن نے  اس منصوبے کی ایسی موت کی دھمکی دی ہے جو چین اور پاکستان دونوں کے مفادات کو شدید زک پہنچا سکتی ہے۔  سوم، پی سی ہوٹل حملہ بلوچستان میں ہونے والے  اُن حالیہ حملوں کا تسلسل ہے جن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں بشمول نیوی اہلکاروں ، ہزارہ برادری اور ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ دشمن بڑی دیدہ دلیری سے دہشت گردی کے ذریعے  ملک کے طول و عرض میں ریاستی رٹ کو  للکار رہا ہے ۔  یہ بات کوئی راز نہیں کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت اور امریکہ کا ہاتھ ہے ۔  

  دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر  

  دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر  

12 days ago.

 کاش جنوبی ایشیا ء میں امن کی بحالی کے دعویدار اپنی باتوں پر عمل بھی کر دکھاتے ! باتیں تو امن کی لیکن ہر عملی اقدام فساد کی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف۔  افغانستان کی مثال سامنے ہے۔ ڈیڑھ عشرے سے زائد فساد  کے کانٹے بونے  والا امریکہ اب فصل گل و لالہ کی امیدیں دلا رہا ہے۔ امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد چھلاوے کی سی رفتار سے دورے پر دورہ فرما رہے ہیں ۔ جو  افغان طالبان امریکہ بہادر کو خاطر میں نہیں لا رہے وہ بھلا لولی لنگڑی کٹھ پتلی افغان حکومت کو کیوں کر گھاس ڈالنے کی حامی بھریں گے ؟ امن کی راگنی گانے والے امریکہ کی نیت پر شک کرنے کی بعض  ٹھوس وجوہات افغان طالبان کو تذبذب میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہیں ! پہلی وجہ تو خود  امریکہ کاسابقہ اور حالیہ متنازعہ کردار ہی ہے ۔ معصوم افغان عوام کے خون کے چھینٹوں نے  امریکہ کے چہرے کو افغانیوں کے لیے بھیانک عفریت بنا دیا ہے ۔امریکی بیساکھیوں پر ڈولتی کٹھ پتلی افغان حکومت  کی حیثیت بھان متی کے ایسے کنبے کی سی ہے جو ذاتی مفادات کی خاطر افغان عوام کے مجموعی مفادات کو دائو پر لگانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی ۔  

   کشمیر  اور شرار  بو لہبی  !

کشمیر اور شرار بو لہبی !

26 days ago.

   بھارتی  فوج  کی مشرقی  کمان  کے سابق سربراہ  جنرل  دیپندر سنگھ ہوڈا  نے  طاقت  کے نشے  میں بد مست  دلی  سرکار  کو   یہ  بتا  کے  خبردار  کرنے  کی کوشش  کی ہے  کہ  مقبوضہ کشمیر  میں  عوامی  سطح  پر  بھارت  کے  خلاف  نفرت  میں  اضافہ  غیر معمولی  حد تک  خطرناک  سطح  کو  جا  پہنچا  ہے۔  ایسا  ہر گز    نہیں کہ سابق  جنرل کشمیریوں  کے  غم  میں  ہلکان  ہو کے  انصاف  کی  بات  کرنے  چلے  ہیں ۔  اس  بظاہر  مدبرانہ دکھائی  دینے  والی   گفتگو  کا  پس  منظر  یہ ہے  کہ کشمیر  پر ناجائز  بھارتی  قبضے کو  بر قرار  رکھنے  کے  لیے  منعقد  کیے  گئے  ایک سیمینار  میں  جنرل  ہوڈا  نے  قاتل  بھارتی  حکومت کو کچھ  ایسے مشورے دیئے ہیںجو درحقیقت  اعتراف ِ  جرم  سے کم  نہیں ۔  جنرل  ہوڈا   کے  بقول   ریاستی طاقت  کے  وحشیانہ    استعمال  کے نتیجے  میں  بھارتی  افواج  حالات  پر قابو  پانے  کے  جو  بلند  بانگ  دعوے  کرتی  ہیں  وہ   نقش  بر آب  ثابت  ہوتے ہیں۔  زمین  کے ٹکڑے  پر  بندوقوں  اور  سنگینوں  سے  قبضہ  کیا  جا سکتا  ہے  !  انسانی  سوچ  اور  جذبوں  پر  نہیں  ۔

  گنتی اور تول کا فرق !

گنتی اور تول کا فرق !

28 days ago.

  مہنگائی میں بتدریج اضافے پر عوام پریشان ہیں ۔ حکومت سے امیدیں زیادہ لگا ئی گئی تھیں ۔ امیدوں کے مقابل اب تک کی  کارکردگی مایوس کُن ہے ۔ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں نے عوام میں حکومت کے متعلق منفی تاثر کو مزید پختہ کیا ہے ۔ خاص طور پر وزیر خزانہ کی عجلت میں رخصتی نے مہنگائی کے دیئے زخموں پر نمک ہی چھڑک ڈالا ہے۔ عوام میں بے چینی کی ایک وجہ کرپشن کے مشہور و معروف مقدمات بھی ہیں ۔ توقعات کے بر عکس نہ تو لوٹ کا مال بر آمد ہو پایا ہے ! نہ مقدمات منطقی انجام کو پہنچے ہیں ! نہ ڈھنگ کی تفتیش ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی  مجرم ثابت ہونے والوں کی سزائوں پر عمل درآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جن عدالتوں کے سرپر سزائیں سنانے کی پاداش میں  ناانصافی کی تہمت دھری گئی تھی آج انہی عدالتوں سے ضمانتوں اور سزائوں کی منسوخی پر فخریہ انداز میں فتح کے شا د یا نے  بجائے جا رہے ہیں ۔ حکمران جماعت کو ووٹ دینے والے عوام بجا طور پر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ البتہ سابق حکمران جماعتوں  پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جانب سے تنقید اور واویلے کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام دیکھنے کے لیے اس قدر بے تاب ہیں کہ کابینہ کی تبدیلیوں اور وزیر خزانہ کی رخصتی کو ہی  حکومت کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں۔

 خود  حُسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے  

 خود  حُسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے  

a month ago.

مذاکرات کا دور دورہ ہے ! ایسا لگتا ہے کہ امریکہ بہادر کو افغان طالبان سے مذاکرات کرنے کا دورہ پڑا گیا ہے۔ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کو دوروں کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ جناب کا ایک پیر قطر تو دوسرا اسلام آباد میں ہوتا ہے۔ ایک شام افغانستان تو دوسری صبح امریکہ میں ہوتی ہے۔ یہ پھرتیاں اور آنیاں جانیاں بے وجہ تو نہیں ! مائیک پومپیو اور منہ پھٹ ٹرمپ کچھ عرصہ پہلے پاکستان پر گرجنے برسنے کی مشق فرما تے رہے! بات گرجنے تک محدود رہی ! برسنے کی نوبت تو خیر کیا آتی اُلٹا پاکستان کے وزیر اعظم نے بذریعہ ٹویٹ ٹرمپ کی مناسب مزاج پرسی فرما کر امریکہ بہادر کو آئینہ دکھا دیا ۔ ٹھنڈی ٹھار سردائی پی کے سویا ہوا ہمارا دفتر خارجہ بھی طویل نیند سے انگڑائی لے کر جاگا اور وزیر خارجہ نے کئی مواقع پر امریکہ بہادر کو کھری کھری سنا کر سابقہ حکومت کی خود اختیار کردہ بے عملی کا ہلکا پھلکا کفارہ بھی ادا کیا ۔ پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی اور شیرینی نہیں بلکہ تلخی نمایاں ہے۔ امریکہ بہادر بھارت جیسے ممولے کو خطے کا تھانیدار بنا کے چینی ڈریگون کا شکار کرنا چاہتا ہے ۔   

  عقل سے پیدل

عقل سے پیدل

2 months ago.

 عقل مند انسان بات کرنے سے پہلے موقع محل ضرور دیکھتا ہے۔ سیاسی قائدین کو تو حد درجہ احتیاط برتنی چاہیے ۔ بیان بازی کے معاملے میں ہمارے سیاستدان خاصے بے احتیاط واقع ہوئے ہیں ۔ بے احتیاط ہی نہیں بلکہ بے عقل بھی۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ زبان درازیاں تو کوئی نئی بات نہیں ۔ ہر جماعت کے پاس ایسے عادی بیان باز موجود ہیں جو اشارہ پاتے ہی زبان کی قینچی سے مخالفین کا تیا پانچہ کر دیتے ہیں اور جواباً اپنی قیادت کے بخیے بھی ادھڑواتے رہتے ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے کہ اپنے تئیں قومی سطح کے لیڈر کہلانے والے بھی اہم قومی معاملات پر بلا سوچے سمجھے جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے جو تازہ فرمودات تنقید کی زد میں ہیں ان پر ہر صاحب عقل تشویش میں مبتلا ہے۔ موصوف جیسے تیسے اپنی جماعت کے سربراہ تو بن چکے ہیں اور موروثی سیاست کی برکت سے قومی اسمبلی میں بھی پہنچ گئے ہیں لیکن تا حال اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا متاثر کن اظہار کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں ۔ چند گھسے پٹے بیانات ، چٹ پٹے ٹویٹ ، بھاڑے کے لکھاریوں کی رٹائی تقریروں اور بھٹو خاندان کے مصائب کے تذکرے کے علاوہ موصوف کے پلے کچھ بھی نہیں۔ اکثر بیانات اور تقاریر جس رنگ میں رنگی ہوتی ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جناب کے گرد ان لوگوں کا گھیرا ہے جو مغرب سے درآمدہ افکار پر اندھا اعتقاد رکھتے ہیں ۔   

 دلی اور تل ابیب کا مشترکہ غم

دلی اور تل ابیب کا مشترکہ غم

2 months ago.

دشمنوں کی خواہشات کے برعکس پاکستان قائم و دائم ہے! رب کا شکر واجب ہے کہ جس نے ہمیں آزاد ملک عطا کیا۔ یوم پاکستان کی تقریبات مناتے ہوئے یہ سوچنا بھی لازم ہے کہ کن شعبہ ہائے حیات میں ہم زمانے سے پیچھے ہیں؟ ہماری طاقت کیا ہے ؟ ہماری کمزوریاں کیا ہیں ؟ یہ بنیادی خیال ہمہ وقت نئی نسل کے پیش ِنظر رہنا چاہیے کہ آخر علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟ بغض کے مارے پڑوسی کے جنگی جنون  سے اس سوال کا جواب اخذ کرنا اتنا مشکل نہیں ۔ بی جے پی کے نظریات اور گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت میں بہنے والے مسلم دشمنی کے سیل بلاخیز نے آنکھیں کھولنے کا کافی سامان مہیا کر دیا ہے۔ بھارت میں یہ سپنا دیکھنے والوں کی کمی نہیں کہ پاکستان گھٹنے ٹیک کر بھارت کا دست نگر بن جائے ۔ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر بنی سرحد مٹ جائے اور ہندوتوا کے جھنڈے تلے رام راجیہ قائم ہو۔ کیا کیا واردات اس ملک کے ساتھ نہیں ہوئی؟ یہ آج بھی قائم ہے اور دشمنوں کے سینے پر مونگ دَل رہا ہے۔