تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

15 days ago.

کسی ملک کا جمہوری نظام بڑی حد تک سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا کمزور ہونا ہے۔ سیاسی جماعتیں برائے نام ہیں درحقیقت معاشرے کے بااثر افراد نے امداد باہمی کی انجمنیں بنا رکھی ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ اور ورکنگ دونوں پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ویسے ہی دودھ پی کر سویا ہوا ہے وگرنہ کیا یہ ممکن ہے کہ سیاسی جماعتیں ڈمی الیکشن کروائیں یا نام نہاد الیکشن ایسے انداز میں منعقد ہوں جن کا جمہوری روایات یا طریقہ کار سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی قبضہ مافیا کو موقع فراہم کیا اور آج ایک آدھ استثنیٰ کیساتھ جس سیاسی جماعت کا جائزہ لیں تو ایک مخصوص گروہ ہر جماعت پر قابض ہے۔ سیاسی جماعتیں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہیں چنانچہ اس گندے جوہڑ سے جمہوری نظام کی سیرابی کیونکر اور کس طرح ہو رہی ہوگی یہ سمجھنے کیلئے پاکستان کی پوری تاریخ حاضر ہے۔   

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

2 months ago.

قدرت جب کسی قوم پر مہربانی کا ارادہ کرتی ہے تو اسے اچھے رہنما عطا کرتی ہے۔ کسی قوم کو ''دیدہ ور'' کا برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو عرصہ دراز کے بعد ایک ایسا رہنما نصیب ہوا ہے جس کی اپنی سوچ' اپنی اپروچ' اپنا ویژن اور اپنا مشن ہے۔ عمران خان وہ رہنما ہیں جو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں۔ وہ مشورہ دینے والوں کے پیچھے چلنے والے نہیں ہیں۔ مشورہ یقینا وہ کرتے ہیں لیکن اپنی سوچ اور اپنے ویژن کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکمرانی کا واضح نصب العین رکھتے ہیں۔ جب وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو بعض نام نہاد مذہبی سیاستدانوں کی طرح جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے یہ بات نہیں کہتے بلکہ ان پر واضح ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نصب العین کیا تھا۔ بروز بدھ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں غربت کے خاتمے کے پروگرام’’احساس‘‘کی تقریب کے دوران انہوں نے اس ضمن میں جو کچھ کہا وہ بہت سے دلوں کو چھو گیا۔ انہوں نے ریاست مدینہ کے حوالے سے اپنی انسپائریشن بیان کی اور کہاکہ  اصل تبدیلی یہ ہے کہ تمام نظام کو اس طرح ڈھالا جائے کہ یہ معاشرے کے غریب اور کمزور افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں مساوی مواقع دے کر اوپر اٹھانے کیلئے بروئے کار آئے۔ یہ ہے ریاستِ مدینہ کی اصل روح۔   

پاک سعودی تعلقات نئی بلندیوں پر

پاک سعودی تعلقات نئی بلندیوں پر

3 months ago.

 اخبارات میں صفحہ اول پر وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بغل گیر ہوتے جو تصویر چھپی ہے وہ پاک سعودی تعلقات کی گرمجوشی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے مابین دوستی کا رشتہ ہمیشہ رہا ہے مگر عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی یہ دوستی کا رشتہ ایک نئے عہد میں داخل ہوگیا ہے۔ بلاشبہ اس بہتری کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی غلط سمت کو درست کیا اور اس راستے کا انتخاب کیا جو پاکستان کے بہترین مفاد میںہے۔ نواز شریف عہد کی خرابیوں میں سے ایک خرابی سعودی عرب کے ساتھ پیدا ہونے والی سرد مہری تھی۔سعودی عرب نے نواز شریف کو بچانے کے لئے نہ صرف انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ انہیں عزت و احترام سے ایک شہزادے کی طرح سرور محل میں رکھا۔ نواز شریف کو کاروبار کی اجازت دی گئی اور ایک مناسب وقت پر ان کی پاکستان واپسی کے انتظامات بھی کئے گئے۔ سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے جنرل پرویز مشرف  پر واضح کیا کہ بے نظير بھٹو کی پاکستان واپسی کی صورت میں نواز شریف ہر صورت پاکستان پہنچیں گے۔