صدارتی نظام

صدارتی نظام

a month ago.

آج کل ایک بار پھر صدارتی نظام حکومت کے بارے میں باتیں شروع ہوگئی ہیں۔ ہر سکے کی طرح اس بحث کے بھی دو رخ ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام ہمارے ملک کے لئے زیادہ موزوں ہے کیونکہ اس طرح اصل طاقت پارلیمنٹ کے پاس ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صدارتی نظام پاکستان میں فیل ہوچکا ہے۔ مجھے ان دونوں دلیلوں سے کچھ اختلاف ہے۔ اصل طاقت پارلیمنٹ کے پاس ہونا محض ایک خوشنما نعرہ ہے اور پھر پارلیمنٹ اگر تقسیم ہو یعنی اگر کسی حکومتی پارٹی کے پاس دونوں ایوانوں میں اچھی خاصی اکثریت نہ ہو تو حکومت تقریباً مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس صورتحال کی بہترین بلکہ افسوسناک ترین مثال پی ٹی آئی کی حکومت سے ہے جو چاہتے ہوئے بھی کوئی قانون سازی کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ صدارتی نظام پاکستان میں ناکام ہوچکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے اس ملک میں اگر کوئی تھوڑا بہت ترقیاتی کام ہوا ہے  وہ صدر ایوب کے دور میں ہی ہوا ہے آپ جنرل یحییٰ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار کو ’’صدارتی نظام‘‘ نہیں کہہ سکتے ۔ ان کی حکومتیں ڈکٹیٹر شپ کے معنی میں آتی ہیں صدارتی جمہوری نظام کی تعریف میں نہیں آتیں۔