یورپ پر انتہا پسندی کے تاریک سائے چھا رہے ہیں

یورپ پر انتہا پسندی کے تاریک سائے چھا رہے ہیں

2 months ago.

اب یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میںہولناک حملوں میں پچاس نمازیوں کو شہید کرنے والا آسڑیلوی برینٹن  ٹارنیٹ فرانس میں اسلام دشمن تحریک سے متاثر ہوا تھا ۔ ٹارنیٹ نے مساجد پر حملہ سے پہلے جو طویل منشور انٹرنیٹ پر شائع کیا تھا اس میں اس نے کہا تھا کہ دو سال پہلے جب وہ فرانس گیا تھا تو اسے اس بات پر سخت حیرت ہوئی تھی کہ فرانس نے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو کس طرح اپنے ہاں بسا رکھا ہے جو مغربی یورپ میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ اس مسئلہ پر ٹارنیٹ کی فرانس کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے بات چیت ہوئی اور اس پر اتفاق ہوا کہ مسلمان ، فرانس اور یور پ کے دوسرے ملکوں میں چھاتے جارہے ہیں اس کا حل مسلمانوں کی شرح پیدائش  میں اضافے پر قابو پا کر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ٹارنیٹ کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں لازمی ہے کہ شرح پیدائش بدلی جائے۔ ٹارنیٹ کا کہنا تھا کہ سفید فام یورپی شہریوں کی جگہ باہر سے آکر بسنے والے مسلمان لے رہے ہیں جو بے تحاشا بچے پیدا کررہے ہیں اور یہ مغربی تہذیب کے لئے خطرہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹارنیٹ نے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے مساجدکو حملہ کا نشانہ بنایا تھا  اور در اصل فرانس‘ برطانیہ، جرمنی اور اٹلی میں سر اٹھاتے ہوئے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کا یہی نعرہ ہے کہ باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی وجہ سے یورپی معاشرہ کی بقا کو خطرہ ہے۔