قومے فروختندو چہ ارزاں فروختند!

قومے فروختندو چہ ارزاں فروختند!

8 days ago.

٭قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند! چھ ارب ڈالروں کا نیا طلائی پنجرہ تیار ہو گیا! ملک کا سارا مالیاتی نظام آئی ایم ایف کے حوالے اسٹیٹ بینک کا سابق گورنر طارق باجوہ اور وزیرخزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی مزاحمت کر رہے تھے، آئی ایم ایف نے قرضہ لٹکا دیا، اس کے حکم پر ان دونوں افراد کو چندسطری احکام کے ذریعے فارغ کر دیا گیا اور آئی ایم ایف کے موجودہ اور سابق ملازموں کو ان اداروں پر بٹھا دیا گیا۔ فوراً قرضہ منظور ہو گیا۔ چھ ارب ڈالر! اکٹھے نہیں، 39 مہینوں میں ہر ماہ 15 کروڑ 38 لاکھ ڈالر (22 ارب روپے) ملا کریں گے۔ اس کے لئے ہر ماہ آئی ایم ایف کو اس رقم کے استعمال کی رپورٹ پیش کرنا ہو گی۔ بہت سی روح فرسا شرائط خبروں کے صفحات میں موجود ہیں۔ بقول بابا ظہیر کاشمیری، غلاموںکے کوئی حقوق نہیں ہوتے، اس لئے کہ انہیں اپنی غلامی کا شعور ہی نہیں ہوتا۔ امریکہ میں کچھ عرصہ پہلے افریقہ سے لائے جانے والے سیاہ فام غلاموں کی نسلی تحقیق کے بارے میں مشہور ناول ’رُوٹس‘ (Roots) پر ایک ٹیلی ویژن نے دستاویزی فلم دکھانا شروع کی تو امریکہ سمیت دُنیا بھر میں اسے دیکھنے کے لئے سیاہ فام ملکوں میں سارا کاروبار بند ہوجاتا تھا۔ اس فلم کا مرکزی کردار افریقہ سے لایا گیا ایک سیاہ فام امریکی کردار تھا۔ وہ ناول میں بیان کرتا ہے کہ اس کا آقا اس سے بارہ گھنٹے سخت کام لیتا اور اتنی غذا دیتا تھا جس سے وہ زندہ رہ کر محنت کر سکے۔ وہ دوبار اس غلامی سے فرار ہوا، ہر بار پکڑا گیا۔ بالآخر اس نے تسلیم کر لیا کہ غلامی اس کا ازلی مقدر ہے، وہ اس سے باہر نہیں جا سکتا۔ قارئین کرام! غلاموں کے اس آقا کا نام ’آئی ایم ایف‘ رکھ دیں۔ وضاحت کی ضرورت نہیں پڑے گی! ’’بندہ مکڑی، ہَتھ وِچ لکڑی، تولے تکڑی! کردا سلام! نام جپو۔ مولا نام نام نام!‘‘  

وزیراعظم کادورہ چین ، لیموں480 روپے کلو

وزیراعظم کادورہ چین ، لیموں480 روپے کلو

22 days ago.

٭وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ سی پیک میں توسیع، دو معاہدے، 16 سمجھوتے، پشاور سے کراچی، نئی ریلوے لائن، انجینئرنگ، کیمیکل، فوڈ آئٹمز، فٹ ویئر (جوتے)، پلاسٹک وغیرہ کی 313 مصنوعات کی چین کو کو برآمد پر ڈیوٹی ختم! چین کی منڈیوں تک کسی ٹیکس کے بغیر رسائی ہو گی۔ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ دورہ کامیاب رہا۔ ویسے ہر حکمران کا بیرون ملک دورہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے چاہے وہ صدارت کے پہلے سال میں آصف زرداری کے چین کے چار نجی دورے ہوں یا نواز شریف کا لندن کے راستے سنگا پور کا نجی دورہ اور بطور وزیراعظم لندن میں دو ماہ تک علاج کا سرکاری خرچ پر ذاتی قیام ہی کیوں نہ ہو! عمران خان  کے حالیہ دورہ کے بظاہر اہم نتائج دکھائی دے رہے ہیں مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان چین کو تقریباً 435 مصنوعات برآمد کرتا ہے ان میں سے صرف 313 اشیاء پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے، باقی 122 مصنوعات پر کیوں یہ چھوٹ نہیں دی گئی؟ دوسری طرف، ایک اطلاع کے مطابق چین کی تین ہزار سے زیادہ مصنوعات پاکستان میں درآمد ہو رہی ہیں، معلوم نہیں ان پر کوئی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے یا سب ڈیوٹی فری ہوتی ہیں؟